ایران خودرو کے مال بردار ریل واگن پہلی بار چین ریلوے کوریڈوز کے راستے اسپیشل اکنامک زون سرخس پہنچ گئے

اسپیشل اکنامک زون سرخس کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ چین سے سرخس تک ایسٹ ویسٹ کوریڈوز کے راستے پہلی بار مکمل ریلوے مال بردار ٹرین پہنچ گئی ہے جس میں ایران خود رو یا آٹوموبائل کمپنی کی فیکٹریوں کے پرزہ جات اور خام مال شامل ہیں ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ جناب رضا رجبی مقدم نے بتایا کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران اس انسٹیٹیوٹ اور ایران خود روکمپنی کی باہمی ہم آھنگی اور سرخس میں مجلس شورائے اسلامی کے نمائندے کی کاوشوں کے نتیجے میں آٹوموبائل  فیکٹریوں خصوصاً ایران خود رو کمپنی کا خام مال چین سے سرخس لایا گیا ۔
جناب رجبی مقدم نے  بتایا کہ اس اقدام سے نہ فقط نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئی ہے بلکہ وقت کا فاصلہ بھی کم ہو کر پچاس دن سے پندرہ دن ہوگیا 
انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران ایسٹ ویسٹ کوریڈوز راستوں اور چین کے BRI جیسے منصوبوں نےیہ واضح کر دیا کہ ایران میں نہ فقط قابل ذکر آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے بلکہ ایران خطے کے اقتصادی اور سیاسی معاملات میں بھی مضبوط کردار ادا کر سکتا ہے ۔ 
جناب رجبی مقدم کا کہنا تھا کہ ریلوے ٹرانزٹ میں اضافے سے ایندھن کی کھپت میں کمی ،سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ بھی کمی اور نقل و حمل کی  سکیورٹی میں بھی بہتری آئے گی۔ 
انہوں نے  واضح کیا کہ چین سے اسپیشل اکنامک زون میں پہلی کھیپ کی آمد کے ساتھ ہی ریلوے ٹرانزٹ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اس لئے اب سامان کو بندرگاہوں پر جمع ہونے نہیں دیا جائے گا۔ 
جناب رجبی مقدم نے  سرخس کو ملکی نقل و حمل کے نظام میں اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ اس خطے کا لاجسٹک  مرحلہ تین حصوں میں ڈیزائن کیا گیا ہے ، اس کے پہلے اور دوسرے مراحل کا نفاذ ہو چکا ہے جو کہ دو سو ہیکٹر سے زائد رقبے پر محیط ہیں جن میں وسیع اور معیاری ریلوے لائنیں اور اسٹیشنز شامل ہیں،جہاں پر دس لاکھ ٹن گنجائش کے ساتھ مال اتارنے اور لوڈ کرنے کی سہولیات ہیں۔ 
 انہوں نے  یہ بھی کہا کہ بندر عباس میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ حکومتی عہدیداروں کے لئے ایک سنگین انتباہ تھا کہ وہ سامان کو ملک کی اہم بندرگاہوں پر جمع ہونے کی اجازت نہ دیں،بلکہ انہیں اسپیشل اکنامک زون سرخس اور دیگر سرحدی راستوں کے ذریعے روانہ اور ٹرانزیٹ راستون سے گذار دیا جائے اور یہ اس مسئلے کا ایک بنیادی حل ہے ۔ 

News Code 7124

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha