آستان نیوز کی رپورٹ کےمطابق؛ انقلاب اسلامی کی فتح کی سالگرہ تقریب حرم امام رضا(ع) کے رواق امام خمینی(رہ) میں منعقد کی گئی جس میں مشہد مقدس کی عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی ، اس تقریب کے دوران آیت اللہ احمد مروی نے اس بیان کے ساتھ کہ مسلمان قرآن اور پیغمبر اسلام(ص) کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دشمن سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے،کہا کہ حال ہی میں دشمنوں نے مذاکرات کی بات کی ہے لیکن ان کا اصلی مقصد عوام الناس کو دھوکہ دینا اورملکی معیشت،صنعت اور ملکی معاملات کی راہ میں رکاوٹ بننا ہے ،وہ ملک کے تمام معاملات کو مذاکرات سے جوڑ کر چند سالوں کے لئے سب کچھ روکنا چاہتے ہیں ،ہم پہلے ایک باراس تجربے سے گزر چکے ہیں،پورے دو سال تک مذاکرات میں الجھے رہے اور اپنے تمام معاملات کو ان سے جوڑے رکھا لیکن آخرکار وقت کے ضیاع اور قیمتی مواقع سے محرومیت کے علاوہ کیا ملا؟
انہوں نے کہا کہ ظالم و جابر اور بے رحم دشمن کبھی بھی ایران ،عوام اور انقلاب کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے،حضرت امام خمینی(رہ) کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہ’’امریکہ سب سے بڑا شیطان ہے‘‘ کہا کہ کس طرح شیطان کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں؟کیسے شیطان سےوعدہ نبھانے اور وفاداری کی امید رکھ سکتے ہیں؟اگر شیطان وفادار ہے تو امریکہ بھی قابل اعتماد اور وفادار ہے ۔
آیت اللہ مروی نے مزید یہ کہا کہ دشمن لوگوں کی توقعات کو بڑھا کر معاشرے میں نفسیاتی ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ یک طرفہ مفادات حاصل کر سکے،لیکن ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ دشمن فقط انقلاب اسلامی کے اصولوں اور اقدار کو ہم سے لینا چاہتا ہے ،کیونکہ انہیں اصولوں اور اقدار نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو بیدارکیا ہے ، ہم نے میزائلوں سے غزہ کو نہیں جگایابلکہ اپنے اصولوں، اقداراور نعروں سے غزہ ،لبنان اور یمن میں مزاحمت کے جذبے کو زندہ کیا ہے اور یہ وہی چیز ہے جس سے دشمن ڈرتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن ہم سے ہماری شناخت چھیننا چاہتا ہے وہی شناخت جس کے تحفظ کے لئے ہم انقلاب لائے اور وہی اقدار جن کے لئے اب تک ڈٹے ہوئے ہیں اس لئے دشمن کے فریبی نعروں اور ظاہری آراستگی سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے،رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بقول دشمن کے نرم اور مخملی دستانوں کے نیچے سخت اور فولادی ہاتھ چھپے ہوئے ہیں۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ جس طرح ہم نے دشمن کو نظر انداز کرتے ہوئے سائنس اور صنعت کے میدان میں ملکی طاقت پر انحصار کر کے نمایاں ترقی حاصل کی ہے اس نقطہ نظر کو ہمیں تمام شعبوں میں جاری رکھنا چاہئے،عہدیداران کو چاہئے کہ وہ اتحاد و یکجہتی اور ہمدردی کے ساتھ حکیم اور با بصیرت قائد کی دانشمندانہ راہنمائیوں کو اپنے لئےترجیح دیں ،یہ چیز ملکی عزت و وقار، آزادی اور ترقی کا باعث بنے گی،اور فقط اسی صورت میں ہم اپنے دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلے کر سکتے ہیں اوراپنے ملک کا روشن مستقبل بنا سکتے ہیں۔
اسلامی انقلاب کے اہم ترین اہداف و مقاصد
آستان قدس رضوی کے متولی نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں دینی اقدار کے احیاء،قومی آزادی،حکومت کے جمہوری ہونے ،مظلوموں کی حمایت اور معاشرے کے تمام پہلوؤں میں انصاف کے قیام کو اسلامی انقلاب کے پانچ اہم ترین اہداف جانتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر میں بہت سے انقلاب مادی اور معاشی وجوہات کی بنا پر وجود میں آئے ہیں اور بہت کم ایسے انقلاب ہیں جن میں انسانوں کے روحانی و الہی پہلوؤں پر توجہ دی گئی ہے ،لیکن ایران کا اسلامی انقلاب شروع سے ہی اخلاقی،اسلامی اور روحانی بنیادوں پر استوار تھا۔
انہوں نے معاشرے میں اسلامی اور اخلاقی اقدار کو ختم کرنے کے لئے پہلوی حکومت کی وسیع کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلوی حکومت نے مختلف ذرائع سے جن میں سخت طریقے بشمول ظالمانہ قوانین کا نفاذ،بی پردگی اور دینی و مذہبی تقریبات کو بند کرنا شامل ہیں اس کے علاوہ نرم طریقے سے جن میں فحاشی اور عصمت فروشی کے ذریعہ معاشرے میں دینی و اخلاقی شناخت کو ختم کیا گیا۔
انقلاب اسلامی کا مقصد اور ہدف معاشرے میں اخلاقی سالمیت اور دینی و انسانی اقدار کو بحال کرنا تھا جیسا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی فرماتے ہیں:’’انقلاب کا بنیادی ترین کام ایران کو مغربی گرفت سے نکالنا تھا‘‘انقلاب نے ایران کو آزاد کیا اور ایرانی مسلمانوں کو شناخت دی۔
ایران کو اسلامی انقلاب کی بدولت آزادملی
آیت اللہ مروی نے اسلامی انقلاب کا دوسرا ہدف ملک کی آزادی جانتے ہوئے کہا کہ انقلاب سے پہلے ایران ایک منحصر ملک تھا جس کے داخلی معاملات میں غیرملکی طاقتیں مداخلت کرتی تھیں،ملک کے بڑے بڑے فیصلے برطانیہ اور امریکہ کے سفارت خانوں میں کئے جاتے تھے اس انحصار کی واضح ترین مثال ایران سے بحرین کی علیحدگی کا واقعہ ہے جس پہلوی حکومت کی جانب سے بغیر کسی مزاحمت کے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پہلوی حکومت کی ذلت و پستی کے عروج کو کیپٹلیشن قانون میں دیکھی جا سکتی ہے ، حضرت امام خمین (رہ) کے بقول اس قانون کے مطابق اگر ایک امریکی فوجی شاہ ایران کو گاڑی کے نیچے روند دے تو ایرانی عدالتوں کو اس کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن اگر ایران کا بادشاہ کسی امریکی کتے کو بھی نقصان پہنچائے تو اس کے خلاف امریکہ عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
اسلامی انقلاب نے اس انحصار کو ختم کیا اور ایران کی حقیقی آزادی کو بحال کیا، آج ایران دنیا کے آزاد ترین ممالک میں سے ایک ہے جو اپنی ملکی اور خارجہ پالیسیوں کا تعین قومی مفادات اور عوامی عزت و وقار کی بنیاد پر کرتا ہے اورکوئی دوسری طاقت اس کے لئے فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتی۔
آستان قدس رضوی کے متولی انقلاب اسلامی کو عوامی جانتے ہوئے کہا کہ بہت سارے انقلابات کے برعکس جو بغاوتوں یا مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں رونما ہوئے ہیں اسلامی انقلاب ایک جمہوری اور عوامی انقلاب تھا ، اس تحریک میں معاشرے کے تمام طبقات سے لوگ شامل تھے اور بڑے بڑے شہروں سے لے کر دور دراز کے دیہاتوں تک نے اتحاد و یکجہتی کے ساتھ حصہ لیا۔
استکبار اور عالمی سامراج ؛ جارحیت کے لئے کسی حد و مرز کا قائل نہیں ہے
آیت اللہ مروی نے مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کا مقابلہ کرنے کو انقلاب اسلامی کی ایک اور خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب نہ فقط ایرانی عوام کی آزادی اور وقار کا خیر خواہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اورپیغمبر گرامی اسلامی (ص) کی تعلیمات کی بنیاد پر دوسرے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم سے بھی غافل نہیں رہ سکتا۔ اس طرز عمل کی واضح ترین مثال فلسطینی عوام کی حمایت اور صیہونی حکومت کے خلاف کھڑے ہونا ہے ، عالمی استکبار اور عالمی سامراج فقط اپنی زمینوں کو وسعت دینے اور نئی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جیسا کہ حال ہی میں امریکہ صدر نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’ غزہ امریکہ کا ہے !‘‘اور غاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نے تجویز پیش کی کہ غزہ کے لوگ سعودی عرب چلے جائیں اور فلسطین کو اس ملک کے ایک حصے میں جا کر تشکیل دیں، ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستکبرین جارحیت کے لئے کسی حد و مرز کے قائل نہیں ہیں۔
غیبت کے زمانے میں حضرت امام مہدیؑ(عج) کے اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے کوشش کریں
آستان قدس رضوی کے متولی نے عوامی ذمہ داری کی وضاحت کرتے ہوئے سالگرہ ریلی میں موجود ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام خمینی(رہ) نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب حضرت امام مہدیؑ(عج) کے عالمی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا،پس اے میرے عزیزو؛یہ انقلاب اور آپ عوام جو اس کے اصلی مالک ہونے کے ساتھ اس کے محافظ بھی ہو، اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ ہم حضرت امام مہدیؑ(عج) کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں اور انشاء اللہ ایک دن یہ انقلاب ظہور سے مل جائے گا۔لیکن اگر امام ظہور فرمائیں تو ہم اس زمانے میں کیا کریں گے؟ ہم کیوں ظہور چاہتے ہیں؟ کیونکہ ہمارا نصب العین الہیٰ اقدار کو قائم کرنا ، عدل و انصاف کو فروغ دینا ،ایران اور تمام مسلمانوں کی عزت و وقار اور آزادی کا تحفظ کرنا اور ظلم و ستم کا مقابلہ کرنا ہے؟پس اگر ظہور کے لئے ہمارے یہ مقاصد ہیں تو غیبت کے زمانے میں بھی ہمیں ان کے حصول کی کوشش کرنی ہوگی۔
آیت اللہ مروی نے کہا کہ ہمیں اخلاقی اقدار کو زندہ رکھنا چاہئے ،انسانی فضیلتوں کو معاشرے میں رائج کریں اور ایسا معاشرہ وجود میں لائیں جو ظہور کے لائق ہو وہ معاشرہ جو گناہوں سے پاک ہو،اس کے لوگ عادل اور منصف ہوں اور اخلاقی خوبیوں سے بھرا ہوا ہو،اگر ہم ظہور سے پہلے ایسا معاشرہ بنا لیں تو ایسا لگے گا جیسے ہم اسی زمانے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ