جناب مسعود فرزانہ نے آستان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ چند برسوں میں درآمد شدہ اشیاء کی کثرت اوران کے ثقافتی اثرات تشویش کا باعث بنے ہیں،اس بنا پر رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملکی سطح پر مصنوعات تیار کرنے اور ملکی مصنوعات کے استعمال پر تاکید کی ،جس پر بہ نشر پبلیکیشنز نے 2017 سے سوغات زائر اورایرانی۔اسلامی اسٹیشنری کی تیاری پر خصوصی توجہ دی ۔
انہوں نے مزید یہ بتایا کہ رضوی آرٹ او ر ثقافت کو فروغ دینے اورمزاحمتی معیشت کے حصول کے مقصد سے بہ نشر پبلیکیشنز نے ثقافتی مصنوعات کے ماہرین کا ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیاتاکہ وہ زائرین کی ثقافتی مصنوعات پر فیلڈ اسٹڈیز کریں لہذا حاصل کردہ نتائج کو 8 مضامین پر تقسیم کیا گیااور ان مصنوعات کی تیاری میں زائرین کی عمر کا بھی لحاظ کیا گیا ہے ۔
قومی سطح پر مصنوعات کی تیاری میں آستان قدس رضوی کا نقطہ نظر
جناب فرزانہ نے کہا کہ قومی پیدوار کی حمایت میں سوغاتِ زائر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیاجن میں سے ایک حصہ ملکی صنعت کاروں نے کے ہاتھ میں دیا گیا اور مصنوعات کی تیاری کا ایک حصہ آستان قدس رضوی کے اداروں کو دیا گیا ۔
انہوں نے مزید یہ بتایا کہ سوغاتِ زائر کی تیاری میں سوغات کے معیاری ہونے ،جاذب اور پُرکشش ہونے اور زائرین کی عمر کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت 600 ملکی مصنوعات تیار کرنے والے افراد کے ذریعہ سوغاتِ زائر تیار کی جارہی ہے ۔
سوغاتِ زائر کی فراہمی میں نشانِ فیروزہ حاصل کرنا
بہ نشر پبلی کیشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ زائرین کی ثقافتی سوغات کے معیاری ہونے کی وجہ سے انہیں نشانِ فیروزہ عطا کیا گیا ہے ،ہم نے سوغاتِ زائر کی تیاری میں ان کے معیاری ہونے پر خصوصی توجہ دی ہے اور کوشش کی ہے حرم امام رضا(ع) کے مختلف عناصر اور ایلمنٹس پر مبنی سوغات تیار کی جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ سوغات زائر میں حرم رضوی کے میناروں سے لے کر قالین، ٹائل،کاشی اور اس طرح کی دیگر تمثیلات اور تشبیھات پر مشتمل مصنوعات تیار کی ہیں، جن کی تعداد اس وقت 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔

بہ نشر پبلیکیشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ 2017 سے اس پبلشنگ مرکز نے حرم رضوی کے فن تعمیر اور ایلیمنٹ پر مبنی زائر کی ثقافتی سوغات کی مصنوعات تیار کرنا شروع کی،جن کی تعداداس وقت اشاعتی مارکیٹوں میں 70 ہزار سے زیادہ ہے ۔
News Code 5329
آپ کا تبصرہ