عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن میں ’’فاطمی تہذیب کی تعمیر میں پیش پیش خواتین‘‘ کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں انگلینڈ، آسٹریلیا، بحرین، پاکستان، افغانستان اور ہندوستان جیسے دس سے زائد ممالک کے ۱۲۰ معززمہمانوں اور اہم شخصیات نے شرکت فرمائی۔
کانفرنس کے ایگزیکٹوسکریٹری جناب غلامپور نے بتایا کہ اس کانفرنس کا انعقاد تہذیب سازخواتین کی خصوصیات کو بیان کرنے،آستان قدس رضوی میں پائی جانے والی صلاحیتوں کے مطابق ایک فعّال بین الاقوامی نیٹ ورک تشکیل دینے، خواتین کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے لئے ایک پلیٹ فارم کی تشکیل اورمقاومت اور عدل وانصاف کے میدان میں خواتین کے مقام کو بیان کرنے کے مقصد کیا گیا۔
اس بین الاقوامی کانفرنس میں حجت الاسلام والمسلمین پناہیان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید صدر(رہ) کے نظریہ کے مطابق دین کو اجتماعی اور سماجی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہئے ،پیغمبر گرامی اسلام(ص) کے زمانے میں لوگوں نے رسول اللہ کے عقائد کی وجہ سے اپنی جانیں قربان نہیں کیں بلکہ رسول اللہ(ص) کے سماجی طرز عمل کی وجہ سے اپنی جانیں قربان کیں۔
حجت الاسلام پناہیان نے پیغمبر گرامی اسلام(ص) کی بعثت کو ایک سماجی اور اجتماعی تحریک کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماجی ذمہ داریوں کو دین کا اصلی ترین محور قرار دیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت زہراء(س) نے اپنا سب کچھ سماجی ذمہ داریوں کو نبھانے پر صرف کردیا اور ایک لمحے کے لئے بھی اپنے آپ کو مخلوق خدا سے الگ نہیں کیاحتی حضرت فاطمہ زہراء (س) کی عبادت بھی سماجی ذمہ داریوں پر صرف ہوگئی،کیونکہ اخلاق اور عبادت بغیر سماجی ذمہ داریوں کے فریب اور مکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر خواتین حق کے لئے قیام کریں تو یقینا وہ لے کر رہتی ہیں اس لئے خواتین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں اور شوہروں کو سماجی ذمہ داریاں یا دلائیں۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے اسلامی تہذیب کے حصول میں خواتین کا کردار مردوں سے زیادہ ہے ۔
اس بین الاقوامی کانفرنس میں محترمہ مجتہدہ زہرہ صفاتی نے بھی خطاب فرمایا، انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ اگر زندگی میں نور اور روشنی چاہتے ہیں تو یہ نور ہم حضرت فاطمہ زہراء(س) کے وجود بابرکت سے حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ تمام کرامات،اچھائیاں اور نور کی ہر کن آپ(س) کے وجود میں پائی جاتی ہیں ،ہم سب کو باطنی طہارت و پاکیزگی کی ضرورت ہے تاکہ اس مرحلے تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہراء(س)کی زندگی کا ہر پہلوہمارے لئے اسوہ اور نمونہ ہے ،خداوند متعال نے حضرت فاطمہ(س)کو بھیج کر انسانیت اور بشریت کے لئے اپنی حجت کو تمام کر دیا۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران یونیورسٹیوں میں حجاب سے متعلق سبجیکٹ پڑھانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑھتا ہے کہ ہمارے ملک کے ثقافتی اداروں نے حضرت فاطمہ زہراء(س) کی شان کے مطابق کوئی کام نہیں کیا،انہوں نے مزید یہ کہا کہ خواتین آرٹسٹوں کو بھی اس موضوع پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
لندن میں واقع ’’لبیک یا زہراء(س)‘‘ انسٹیٹیوٹ کی سربراہ محترمہ ام فروہ نقوی نے بھی اس بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق حضرت فاطمہ(س) انسان کامل ہیں اور اسی خصوصیت کی وجہ سے آپ(س) دنیا بھر کی خواتین کے لئے بہترین نمونہ بن سکتی ہیں اور ہر انسان آپ(س) سے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرنے کا سبق حاصل کر سکتا ہے ۔
عالمی اسمبلی اہلبیت(ع) کی سپریم کونسل کے رکن آیت اللہ اختری نے بھی اس تقریب کے دوران خطاب کیا اور کہا کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی منزلت اس قدر زیادہ ہے کہ پیغمبر عظیم الشان (ص) آپ (س) کو امّ ابیھا کہہ کر بلاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ(س) دنیا کی باعظمت ترین خاتون اور بشریت کے لئےبہترین نمونہ عمل ہیں۔
اس بین الاقوامی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پرمحترمہ مجتہدہ زہرہ صفاتی کو گولڈ میڈل آف آنراور اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا اس کے علاوہ دیگر معزز شخصیات کو بھی انعامات اور اعزازی شیلڈ سے دی گئیں۔
قابل توجہ ہے کہ اس بین الاقوامی کانفرنس کو آستان قدس رضوی کے بین الاقوامی ادارے کی کاوشوں اور بین الاقوامی سطح پر ایکٹو تنظیموں اور اداروں کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا جس میں ملکی خواتین کے امور کی نائب صدر نے بھی شرکت فرمائی ۔
آپ کا تبصرہ