’’علوم انسانی میں جدید تحقیقات‘‘ کانفرنس ؛ ایران و عراق کے مابین علمی تعاون کا آغاز

بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) اور عراق کی الکنوز یونیورسٹی کے باہمی تعاون سے ’’علومِ انسانی میں جدید تحقیقات‘‘ کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عراقی یونیورسٹیوں کے 42 پروفیسرز اور محققین نے شرکت کی۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ ایک روزہ کانفرنس یونیورسٹی کے شہید فخری زادہ ہال میں منعقد ہوئی جس کا مقصد بصرہ میں واقع الکنوز یونیورسٹی اور امام رضا(ع) یونیورسٹی کے مابین علمی معاہدے کا نفاذ تھا۔

مشترکہ علمی کانفرنسوں اور سیمنارز کے انعقاد کی ابتدا

بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) کے چانسلر ڈاکٹر ابراہیم دانشی فر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کے مابین ایک مشترکہ ثقافت پائی جاتی ہے ۔

انہوں نے مزید یہ کہا کہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں ہر روز ٹیکنالوجی میں توسیع و ترقی ہو رہی ہے ہماری جغرافیائی سرحدیں ہماری مشترکہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف علوم میں علمی ترقی کے تبادلے،ایرانی و عراقی طلباء کے مشترکہ تحقیقاتی منصوبوں کی حمایت،مشترکہ تحقیقی مراکز کا قیام،مشترکہ کانفرنسوں اور سیمنارز کا انعقاد وغیرہ کو ایران و عراق میں مشترکہ طور پر انجام دیا جا سکتا ہے ۔

ایران و عراق کے مابین یونیورسٹی سطح کے تبادلات میں ایک مثبت قدم

کانفرنس کے تسلسل میں عراق کی الکنوز یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر یوسف الاسدی نے اس کانفرنس کو یونیورسٹی سطح کے تبادلات میں ایک مثبت قدم قرار دیا۔

انہوں نے الکنوز یونیورسٹی اور امام رضا(ع) یونیورسٹی کے مابین مختلف مفاہمتی قرار دادوں کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان طلباء اوراساتذہ کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ اور مؤثر سرگرمیاں انجام دی جا سکیں گی۔

ڈاکٹر الاسدی نے اربعین پر بیس لاکھ زائرین کے مشہد الرضا(ع) کی جانب پیدل مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس عالمی تحریک پر تحقیقات کرنی چاہئیں اور اس کام کے لئے مصنوعی ذہانت سے بھی استفادہ کرنا چاہئے تاکہ ہم نہ صرف بہتر نتائج حاصل کر سکیں بلکہ اس عظیم پیدل سفرکا بہتر انتظام بھی کرسکیں۔

علوم انسانی کے موضوع پر 29 تحقیقاتی مقالات موصول ہوئے

’’علوم انسانی میں جدید تحقیقات‘‘ کے موضوع پر منعقد کانفرنس کے ایگزیکٹیو سیکرٹری ڈاکٹر سید رضا طالبیان نے یونیورسٹیوں کے مابین روابط کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس دونوں ممالک کے اساتذہ کی آپس میں شناخت اور تعارف کے لئے ایک بہترین فرصت ہے ۔

امام رضا (ع) یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن نے اس کانفرنس کے سیکریٹریٹ کو موصول ہونے والے 29 مقالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام موضوعات کا موضوع علمی ہے اور علومِ انسانی کے محور پر لکھے گئے ہیں۔

ڈاکٹر طالبیان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس بین الاقوامی یونیورسٹی امام رضا(ع) اور عراق کی الکنوز یونیورسٹی کے مابین مختلف معاہدوں کے نفاذ کے سلسلے میں منعقد کی گئی ہے ۔

علوم انسانی کے میدان میں عملی طریقہ کار تک رسائی کی ضرورت

آستان قدس رضوی کے ادارہ بین الاقوامی امور کے معاون نے کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی اور انسانی علوم کے بارے میں سیکھنا اور سرگرم عمل رہنے سے ہم خدا کے قریب ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اسلامی معاشرہ انسانی علوم کے میدان میں مؤثر سرگرمیاں انجام دے ۔

حجت الاسلام فقیہ اسفند یاری نے کہا کہ علم کے حصول میں ایک سفر اور جہالت سے علم کی طرف ہجرت واقع ہوتی ہے اور جب فرد اس راستے سے گزرتا ہے تو وہ عالم بن جاتا ہے اور پھر جب وہ اپنے اس علم میں اضافہ کرتا ہے تو اسے ’’اعلم ‘‘ کہا جاتا ہے ،لیکن یہاں تک کافی نہیں ہے حتی اعلم انسان کو بھی علم کے حصول کے بعد معرفت اور خدائے بزرگ و برتر کے وجود پر یقین کی ضرورت ہوتی ہے ۔

واضح رہے کہ کانفرنس کے اختتام پر دونوں یونیورسٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئیں اورایک دوسرے کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

News Code 7118

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha