آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ 1403 ہجری شمسی کے آخری ایّام میں اور ماہ مبارک رمضان کے موقع پر حرم امام رضا(ع) کے ادارہ تعمیر و بحالی نے صحن جمہوری اسلامی کے چالیس سالہ پرانے مینارے کو نئی صحن کی نئی جگہ پر منتقل کردیا ۔
حرم امام رضا علیہ السلام کے ادارہ تعمیر اور دیکھ بھال کے سربراہ جناب خلیل اللہ کاظمی نے اس سلسلے میں وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران حرم امام رضا(ع) میں تعمیراتی ترقیاقی کاموں کے باجوددس لاکھ مربع میٹر میں سے فقط چار فیصد حصہ ڈھانپا ہوا اور چھت پر مشتمل تھا ،جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کے دوران زائرین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
آستان قدس رضوی کے متولی کے حکم پر یہ طے پایا کہ حرم امام رضا(ع) کی مسقف(چھت والی) جگہوں میں اضافہ کیا جائے جس کے بعدشیخ بہائی انڈر گراؤنڈ پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا اور اس کے ساتھ صحن جمہوری اسلامی میں رواق امیرالمؤمنین کی تعمیرکا بھی آغاز کیا گیا۔
جناب کاظمی نے بتایا کہ ان دو پراجیکٹ کے مکمل ہونے سے حرم مطہر رضوی کی36 فیصد مسقف(چھت والی) جگہوں میں اضافہ ہوگا۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس تعمیراتی کام میں ہماری یہ کوشش تھی کہ جہاں تک ممکن ہو،استعمال شدہ مواد سے استفادہ کیا جائے ،اس مقصد کے لئے بہت سارے پتھروں کو اس صحن سے اکھٹا کرنے کے بعد باب الجواد اور باب الرضا کے درمیان قبلہ اسکوائر کے داخلی دروازے پر استعمال کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ صحن میں نصب نوشتہ جات اور کتبوں کو اکھٹاکیا گیا ہے تاکہ انہیں بھی بعد میں استعمال میں لایا جاسکے۔
صحن جمہوری کے مینارے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات
انہوں نے مزید یہ بتایا کہ صحن جمہوری کے نیچے بھشت ثامن(قبرستان) ہونے کی وجہ سے ضروری تھا کہ ان میں واقع ستونوں کواوپر والے حصے کی تعمیر کےلئے مستحکم کیا جائے ۔ اس کام کےلئے قبروں اور صحن کے درمیان والے حصے میں ستون تعمیر کئے گئے البتہ ان ستونوں کی تنصیب کے دوران قبروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
رواق امیرالمؤمنین کی تعمیر میں دوسرا اہم موضوع ایک مینار کو پرانی جگہ سے نئی جگہ منتقل کرنے کا تھا اس مینار کی لمبائی 35 میٹر اور وزن تقریبا210 ٹن تھا ،اس مینار کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے ایک بھاری کرین کا حرم میں لانا بھی ممکن نہیں تھا اس لئے ہم نے اسے دوسری جگہ پر منتقل کرنے کا ایک اور طریقہ استعمال کیا۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہ اس مینار کو نئی جگہ منتقل کرنے کے لئے مخصوص ریل پٹری کا استعمال کیا گیا جس سے مینار کے پورے ڈھانچے کو نئے مقام پر منتقل کیا گیا۔
جناب کاظمی نے بتایا کہ مینار کو نقصان نہ پہنچے اس کام کے لئے ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو نچلے حصے سے علیحدہ کیا۔
انہوں نے بتایا اگرچہ یہ کام بہت دشوار تھا لیکن الحمد للہ مؤرخہ 27 فروری2025 بروز جمعرات کواس کام کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا اور مینار کے گلدستے کو اسّی ٹن کے آٹھ جکوں سے اتارا گیا۔
انہوں نے مزید یہ بتایا کہ اس کے بعد مینار کے دوسرے حصوں کو کاٹ کر نئی جگہ منتقل کرنے کے لئے تیار کیا گیا اورمؤرخہ یکم مارچ2025 بروزہفتے کو اس کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام شروع کردیا گیااور رات نو بجے تک کام مکمل ہو گیا ۔
واضح رہے کہ ہر گھنٹے میں چھ میٹر کا فاصلہ طے کیا گیا اور65 میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مینار کو نئی جگہ پر منتقل کردیا گیا۔
قابل توجہ ہے کہ صحن جمہوری اسلامی میں دو مینارہیں جن کے درمیان فاصلہ 120 میٹر تھا اور اب ان میں سے ایک مینار کو نئی جگہ منتقل کرنے کی وجہ سے دونوں میناروں کا فاصلہ پچاس میٹر ہوگیا ہے۔

روضہ منورہ امام رضا(ع) کے انجینئرز کی چوبیس گھنٹوں کی محنت کے بعد صحن جمہوری اسلامی کے چالیس سالہ پرانے مینارے کو صحن جمہوری کے شمالی پورچ میں متقل کردیا گیا۔
News Code 5864
آپ کا تبصرہ