’’بہ نشر‘‘ پبلیکشنز کی ۷۱کتابوں کے غیرملکی زبانوں میں تراجم کا تعارف

ایرانی معاصرادیبوں نے ادب و ثقافت کی دنیا میں بہت سارے شاہکار تخلیق کئے ہیں جن میں بہت سی تخلیقات نے مشرق و مغرب میں شہرت حاصل کی،ایران کے بہت سارے پبلیکشنز جومغربی کتابوں کے فارسی میں ترجمے کرتے ہیں ان کے برعکس’’بہ نشر‘‘پبلیکشنز فقط فارسی میں تحریر کی گئی دینی و مذہبی کتب کے فارسی سے دوسری زبانوں میں تراجم کے بعد اشاعت کا کام انجام دیتی ہے۔

’’بہ نشر‘‘پبلیکشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب حسین سعیدی نے عتبہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آستان قدس رضوی کے اشاعتی ادارے نے ۱۹۹۷ سے بچوں اور نوجوانوں سے متعلق ادبی میدان میں قدم رکھ کر بہت سی گرانقدر تصانیف شائع کیں جنہیں بین الاقوامی نمائشوں میں بھی رکھا گیا ،اور قارئین نے انہیں بہت زیادہ سراہا،البتہ عرب ممالک اور ترکی بولنے والے ممالک  اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مشترکہ ثقافت اور مذہب کی وجہ سے ان کاموں کو زیادہ پذیرائی دیتے ہیں،بچوں اور نوجوانوں سے متعلق سب سے زیادہ فروخت ہونےوالی  کتب اور مضامین کو ’’کتاب ہای پروانہ‘‘کے عنوان سے ترکی اور عربی میں ترجمہ کیا گیا۔

انہوں نے حالیہ برسوںمیں  شائع کی گئی کتب کا غیرملکی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۱۶ سے پہلے شائع کردہ کتابوں کے صرف۷ عنوانات کا مالائی زبان میں ترجمہ کیا گیا تھا حالانکہ گذشتہ سات برسوں میں بچوں،نوجوانوں اورجوانوں سے متعلق۶۴ ادبی تخلیقات کو چینی،ترکی،عربی اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ کے بعد شائع کیا جا چکا ہے ،ان میں سے ۱۲ کا انگریزی زبان میں،۱۳ کا عربی زبان میں،۱۸ کا ترکی زبان میں،۱۰ کا مالائی زبان میں،۱۰ کا ترکی زبان میں اور ۸ کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

قصوں پر مشتمل کتاب’’قصہ ما مثل شد‘‘ کا ترکی اور چینی زبان میں ترجمہ
جناب سعیدی نے ۱۰جلدی مجموعہ’’قصہ ما مثل شد‘‘ کو جملہ ’’بہ نشر‘‘ پبلیکشنز کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب جانتے ہوئے کہا کہ۱۰ جلدی کتاب’’قصہ ما مثل شد‘‘اسلامی جمہوریہ ایران کی کتابِ سال کے عنوان سے منتخب ہونے والی کتاب ہے جسے محمد میر کیانی نے تحریر کیا،یہ کتاب ۲۲۰ ایرانی قصوں اور ضرب المثل پر مشتمل ہے،جنہیں سادہ اور رواں زبان میں بچوں اور نوجوانوں کے لئے  لکھا گیا۔

اس کتاب پر ۱۰۶ حصوں کی انیمیشن سیریز بنائی گئی،نوجوان قارئین کی وسیع سطح پر پذیرائی اوراساتذہ کا قصہ سنانے کے لئے اس کتاب سے استفادہ کرنے کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اس کے کئی ایڈیشن شائع کئے گئے،اس مجموعہ کا ترکی زبان میں گلی یلدیز نے ترجمہ کیا اور خانم ہاہاشیویان و گوان یوان نے اس مجموعہ کا چینی زبان میں جو کہ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والی زبان ہے ترجمہ انجام دیا۔
’’بہ نشر‘‘ کی ۱۳تصانیف کا عربی میں ترجمہ
’’بہ نشر‘‘ پبلیکشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ مجید ملا محمد کی تحریر کردہ کتاب’’ماہ غریب من‘‘ کے ۱۰ ایڈیشن  اور۳۷ ہزار نسخے شائع کئےجا چکے ہیں،اس کتاب میں نوجوانوں کے لئے  امام رضا(ع) کی زندگی سے متعلق اہم واقعات،امام ہشتم کے اخلاقی فضائل اور آپ کی عملی اور علمی سیرت کو بیان کیا گیا ہے ،اس شاہکار کا عربی ترجمہ محترمہ فاطمہ تی سوداگر نے ’’قمری الغریب‘‘ کے عنوان سے انجام دیا۔

گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ علی باباجانی کی تحریر کردہ کتاب’’قصہ ہای حنانہ‘‘(حنانہ کی کہانیاں)جس میں تصاویر کی عکاسی گلنار ثروتیان نے انجام دیں،اس کتاب میں حنانہ نامی بچی سے متعلق جو اپنے والدین اور اپنے بھائی حامد کے ساتھ رہتی ہے دلچسپ اور معلوماتی کہانیاں تحریر کی گئی ہیں،اس مجموعہ میں خاندانی رشتوں کو بچگانہ زبانہ میں بیان کیا گیا ہے ۔

اس کتاب کی ہرجلد میں بچوں کے لئے ایک دلچسپ  کہانی  بیان کی گئی ہے جس کے بعد اس میں پائے جانے والے  دینی اور اخلاقی مفاہیم اور نکات بیان کئے گئے ہیں،اس مجموعہ میں سے کتاب’’بوی گل‘‘،’’یک عکس زیبا‘‘،’’عروسک مو طلایی‘‘ اور’’لباس مہمانی‘‘ کامحسن رضوانی کے توسط سے عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے ۔

کتاب’’یک داستان تخیلی با مفہوم قرآنی‘‘کے مجموعہ کا ترکی ،جرمن اور عربی زبان میں ترجمہ

جناب سعیدی نے بتایا کہ فرانسوی مصنف کلیرجوبرٹ کی تحریر کردہ کتاب’’یک داستان تخیلی با مفہوم قرآنی‘‘ کا مجموعہ’’بہ نشر‘‘ کی ان چند کتب میں ہے  جن کے دیگر ممالک میں بھی قارئین ہیں،انہوں نے کہا کہ ’’کیک امانتی‘‘،’’شلوپی‘‘،’’آش آشتی کنان‘‘،’’کہ این طور!‘‘،’’راز پاپاپا‘‘،’’ماجرای سیب قرمز‘‘،’’تازہ چہ خبر؟‘‘ اور ’’مسابقہ کوفتہ پزی‘‘اس سیریز بک کے عناوین ہیں جنہیں کلیرجوبرٹ نے آٹھ خیالی کہانیوں کی صورت میں جھوٹ،دیانتداری،سچائی،امن و صلح،غیبت اور تجسس وغیرہ کے موضوعات پر بچوں کے لئے قرآن کریم کی ایک آیت کی رو سے عکاسی کی ہے۔اس سیریز کتاب کا ترکی استانبولی میں ترجمہ میلاد سلمانی نے کیا ،جرمن زبان میں مسجد امام علی انسٹیٹیوٹ نے انجام دیا اور عربی زبان میں محسن رضوانی نے ترجمہ انجام دیا ہے ۔
 جغرافیائی اور بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان انگریز میں ترجمہ
’’بہ نشر‘‘ پبلیکشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر نے ایرانی ادبی کتب کے انگریزی زبان میں ترجمہ کو دوسری ترجیحی زبان جانتے ہوئے کہا کہ رواں سال میں خانم کلیرجوبرٹ کی چند شاہکار تخلیقات ’’سہ نکتہ مامان ہا‘‘،’’شام خالہ ہزار پا‘‘،’’قانون ششم‘‘،’’کلوچہ خال خالی‘‘،’’یک داستان دنبالہ دار‘‘،’’پازل خدایی من‘‘،’’مثل یوسف پیامبر‘‘،’’دوست عجیب‘‘اور’’کلمہ جادویی‘‘ کافاطمہ تی سوداگر نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے ۔

’’یک دانہ توت فرنگی‘‘اور ’’خوشہ طلایی‘‘ کتب کو یگانہ مرادی لاکہ اور افسانہ موسوی گرمارودی نے تحریر کیا جن کا ترجمہ ۲۰۲۳ میں فاطمہ تی سوداگرنے انگریزی میں انجام دیا۔

’’بہ نشر‘‘ پبلیکشنز کی شائع شدہ کتب کا ملائیشیا میں مالائی  زبان میں ترجمہ

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملائیشیا جو کہ سب سے زیادہ آبادی والا اسلامی ملک ہے اور اسلامی مراکز سے دور ہونے اور اسلامی مواد کی کمی کے باعث ،اس میں اسلامی تعلیمات کی شدید تشنگی  محسوس کی جاتی ہے ،انہوں نے کہا کہ’’بہ نشر‘‘کی بعض کتب ’’نشر الامین‘‘پبلیکشنز کے تعاون  سے سے ترجمہ اور شائع کی گئی جن میں ’’بستنی خورشید‘‘،’’مادربزرگ را در ماہ دیدم‘‘،’’من پیدا شدہ ام‘‘اور’’خانم غولہ بہ عروسی می رود‘‘ کو محمد رضا رستگار مقدم اور محمد یزدانی نے مالائی زبان میں ترجمہ انجام دیا ہے ۔ اس کے علاوہ ’’چرخ قرمزی‘‘،’’در ھر دل آوازی ھست‘‘ ،’’دوچرخہ و پرندہ‘‘،’’صورتی سرگردان‘‘،’’قصہ ہای علی و گلی‘‘اور’’نقاشی عجیب منگولہ مو‘‘، چند دیگر کتب ہیں جن کا مالائی میں ترجمہ کیا گیا ہے جنہیں منصورہ صابری،رضی خدا دادی،فریبا کلہر،ویولت رازق پناہ،لالہ جعفری اورفروزندہ خدا جونے تحریر کیا اور محمد رستگار مقدم ،محیا غلام پور اور محمد یزدانی نے مالائی زبان میں ترجمہ انجام دیا۔

News Code 2768

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha