ضریح مطہر

  • حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) کی شہادت کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) سیاہ پوش

    حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) کی شہادت کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) سیاہ پوش

    باب الحوائج حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کے صحنوں،ضریح مطہر اور گنبد مطہر کو مؤرخہ24 جنوری2025 بروز جمعہ سے سوگ کی علامت کے طور پر سیاہ پرچم اور بنرز نصب کر کے سیاہ پوش کیا گیا ،حرم رضوی کے گنبد مطہر کا پرچم سوموار تک سیاہ رہے گا۔

  • سوگ کی علامت کے طور پر حرم امام رضا(ع) کے گنبد مطہر پر سیاہ پرچم نصب

    سوگ کی علامت کے طور پر حرم امام رضا(ع) کے گنبد مطہر پر سیاہ پرچم نصب

    حضرت فاطمہ زہراء(س) کے ایّام شہادت کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کے گنبد مطہر پر نصب سبز پرچم اتار کر سوگ کی علامت کے طور پر سیاہ پرچم نصب کر دیا گیاہے۔

  • حضرت فاطمہ زہراء(س) کی شہادت کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کے گنبد مطہر کا پرچم تبدیل

    حضرت فاطمہ زہراء(س) کی شہادت کی مناسبت سے حرم امام رضا(ع) کے گنبد مطہر کا پرچم تبدیل

    ایّام فاطمیہ کے آغاز اور حضرت فاطمہ زہراء (س) کی شہادت کی مناسبت سے سوگ کی علامت کے طور پر مؤرخہ 14 نومبر2024 بروز جمعرات کو حرم امام رضا(ع) کے گنبد مطہر کا سبز پرچم اتار کر سیاہ پرچم نصب کر دیا گیا۔

  • حرم امام رضا(ع) کے غیرملکی زائرین سے گفتگو

    حرم امام رضا(ع) کے غیرملکی زائرین سے گفتگو

    سال کے 365دنوں میں جب بھی آپ کی نظر امام رضا(ع) کے گنبد مطہر اور نورانی بارگاہ پر پڑتی ہے توآپ کے جسم و روح دونوں کی حالت بہتر ہوجاتی ہے ،لیکن بہت سارے افراد ایسے بھی ہیں جو سال بھراپنی اپنی حاجات کو عقیدت و محبت کی زنبیل میں سنبھال کر رکھتے ہیں تاکہ ڈائریکٹ اپنی دعاؤں کو شرف قبولیت دلوا سکیں ، فرق نہیں کہ آپ کے کندھوں پر گناہوں کا بوجھ ہے یا با ایمان ہیں،مانگو گے تو وہ عطا کرے گا اور ڈھونڈو گے تو مل جائے گااور اگر اس کی مہربانیوں سے کنکٹ ہوگئے تو بقول آج کے نوجوانوں کے ان لمیٹڈاور وسیع بینڈ گیپ ملے گا۔

  • پہلے مسلمان سیّاح ’’ابن بطوطہ ‘‘کی زبانی حرم امام رضا(ع) کی داستان

    پہلے مسلمان سیّاح ’’ابن بطوطہ ‘‘کی زبانی حرم امام رضا(ع) کی داستان

    ایک وقت تھا جب دنیا کی سیر اور سیاحت کرنا ایک ایسی خواہش تھی جس کا پورا ہونا ہر کسی کے نصیب میں نہيں ہوتا تھا کیونکہ اس دور میں ایک فرسخ کا سفر طے کرنے میں پورا دن لگ جاتا تھا ،یہی وجہ تھی کہ جب بھی اس دور میں کوئی شخص سفر پر نکلتا تو سفر کی داستان اور سرگذشت کو ضرور ر قلمبند کرلیتا تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں سفر کی حسرت ہے لیکن سفر پر جا نہیں سکتے وہ اسے پڑھ کر اپنے خیالات اور تخیلاتی دنیا میں سیر کرکے دور دراز کے علاقوں اور وہاں بسنے والوں کی زندگی اور طرز زندگی سے آشنائي حاصل کرسکیں