آستان قدس رضوی کے شعبۂ بین الاقوامی امور اور امام رضا علیہ السلام انٹرنیشنل کلچرل اینڈ آرٹسٹک فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور رضوی ثقافت و معارف کو عالمی سطح پر وسعت دینے کے مقصد سے آستان قدس رضوی کے شعبۂ بین الاقوامی امور اور امام رضا علیہ السلام انٹرنیشنل کلچرل اینڈ آرٹسٹک فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت پر 4 نومبر 2026ء کو حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر مصطفیٰ فقیہ اصفندیاری، معاون برائے بین الاقوامی امور آستان قدس رضوی، اور فرشید فلاح اللہ زاری، چیف ایگزیکٹو امام رضا علیہ السلام انٹرنیشنل کلچرل اینڈ آرٹسٹک فاؤنڈیشن نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں اداروں کی صلاحیتوں کو یکجا کرنا، ایک دوسرے کی استعداد سے استفادہ کرنا اور مشترکہ بین الاقوامی پروگراموں اور منصوبوں کی تیاری و عمل درآمد کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔

یہ تعاون امام رضا علیہ السلام کی سیرت اور تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہوئے عالمی سطح پر رضوی ثقافت کے فروغ، آستان قدس رضوی کے ساتھ ثقافتی و روحانی روابط کو مضبوط بنانے اور قومی و بین الاقوامی میدانوں میں دونوں اداروں کے کردار کو مؤثر بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے مطابق، دونوں فریق ثقافتِ زیارت کے فروغ اور بین الاقوامی زائرین کے لیے سہولتوں کی فراہمی، بیرونِ ملک رضوی موضوعات پر معیاری تخلیقات کے مصنفین اور فن کاروں کی شناخت و تکریم، جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ثقافتی و فنّی مواد کی تیاری، ترجمے اور تقسیم، نیز رضوی ثقافت و معارف سے متعلق تخلیقات کی ترقی اور پیشکش جیسے شعبوں میں تعاون کریں گے۔

آستان قدس رضوی کے شعبۂ بین الاقوامی امور کی ذمہ داریاں

اس مفاہمتی یادداشت کے تحت آستان قدس رضوی کا شعبۂ بین الاقوامی امور اپنے فرائض اور دستیاب صلاحیتوں کے دائرے میں زیارت کو آسان بنانے اور دنیا بھر کے علمی، تحقیقی، ثقافتی، قرآنی، اوقافی اور فلاحی مراکز کے ساتھ روابط قائم کرنے اور انہیں مضبوط بنانے میں تعاون کرے گا، بالخصوص اسلامی ممالک میں۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح کی علمی و ثقافتی شخصیات، دانشوروں اور ممتاز افراد کو دعوت دینے اور ان کی میزبانی کرنے، علمی، تحقیقی، ثقافتی اور زیارتی شعبوں میں معلومات و تجربات کے تبادلے، بیرونِ ملک سامعین اور مخاطبین کے آستان قدس رضوی کے ساتھ ثقافتی و روحانی تعلق کو مضبوط بنانے اور مختلف ادیان و مذاہب کے ساتھ بین الاقوامی علمی و تحقیقی مکالمے کے منصوبوں کی تیاری اور عمل درآمد میں شرکت بھی اس شعبے کے تعاون کے اہم محور ہوں گے۔

بین الاقوامی مواقع کی نشاندہی، مشترکہ تقریبات کا انعقاد، امام رضا علیہ السلام کے جامع بین الاقوامی پلیٹ فارم کے لیے مطلوبہ مواد کی تیاری اور فراہمی میں تعاون، نیز بیرونِ ملک ثقافتی و فنّی پروگراموں کی حمایت بھی اس معاہدے میں شامل دیگر امور ہیں۔

امام رضا علیہ السلام انٹرنیشنل کلچرل اینڈ آرٹسٹک فاؤنڈیشن کی ذمہ داریاں

امام رضا علیہ السلام انٹرنیشنل کلچرل اینڈ آرٹسٹک فاؤنڈیشن بھی اس مفاہمتی یادداشت کے تحت رضوی ثقافت سے متعلق ثقافتی و فنّی تخلیقات کی تیاری اور فروغ کے شعبے میں اپنی خصوصی صلاحیتیں اور تجربات مشترکہ تعاون کے لیے فراہم کرے گی۔

بیرونِ ملک رضوی موضوعات پر معیاری تخلیقات کے مصنفین اور فن کاروں کی شناخت و تکریم، بین الاقوامی مخاطبین کی ضروریات کے مطابق مواد کی تیاری، بہتری، ترجمے اور تقسیم، بین الاقوامی امام رضا فیسٹیولز کے میزبان ممالک کے انتخاب میں تعاون اور امام رضا علیہ السلام کے جامع بین الاقوامی پلیٹ فارم کے لیے مطلوبہ مواد کی تیاری، فاؤنڈیشن کے تعاون کے اہم شعبوں میں شامل ہیں۔

اسی طرح بین الاقوامی نقطۂ نظر کے تحت ثقافتی و فنّی پروگراموں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد، امام رضا علیہ السلام اور رضوی ثقافت کے موضوع پر علمی و ثقافتی نشستوں اور مذاکروں کے انعقاد میں تعاون، بالخصوص عشرۂ کرامت اور ماہِ صفر کے آخری عشرے میں، نیز رضوی تخلیقات اور معارف کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کے لیے بین الاقوامی صلاحیتوں سے استفادہ بھی فاؤنڈیشن کے دیگر شعبۂ تعاون ہوں گے۔

معاہدوں کی پیروی اور عمل درآمد کے لیے مشترکہ کمیٹی کی تشکیل

اس مفاہمتی یادداشت کے انتظامی و اجرائی حصے کے تحت طے پایا ہے کہ دونوں فریقوں کے بااختیار نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی دو سال کی مدت کے لیے تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی خصوصی نشستوں کے انعقاد کے ساتھ مشترکہ سرگرمیوں میں ہم آہنگی، منصوبہ بندی، نگرانی اور جائزے کا انتظام کرے گی۔

طے شدہ معاہدے کے مطابق، مشترکہ منصوبوں اور پروگراموں پر عمل درآمد الگ الگ معاہدوں کے ذریعے کیا جائے گا۔ ہر معاہدے میں عمل درآمد کے سلسلے میں دونوں فریقوں کا حصہ اور ذمہ داریاں، اخراجات کی فراہمی کا طریقۂ کار اور منصوبوں کے نتائج سے استفادے کی شرائط واضح کی جائیں گی۔ مشترکہ کمیٹی ہر چھ ماہ بعد کارکردگی اور پیش رفت کی رپورٹ دونوں اداروں کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔

اس مفاہمتی یادداشت کی مدتِ اعتبار پانچ سال ہوگی اور اسے باہمی مفادات کے اصول اور دونوں اداروں کی خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ اس یادداشت پر دستخط کرنے سے بذاتِ خود کسی بھی فریق پر مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی، جبکہ کسی بھی قسم کے اخراجات یا مالی تعہد کے لیے تحریری اتفاقِ رائے اور علیحدہ معاہدہ ضروری ہوگا۔

اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو دونوں اداروں کی خصوصی اور بین الاقوامی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے، جو رضوی ثقافتی سفارت کاری کے فروغ، اہلِ بیت علیہم السلام کے معارف کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور دنیا بھر میں امام رضا علیہ السلام کے عقیدت مندوں اور محبین کے روحانی تعلق کو مزید گہرا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

News Code 10693

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha