عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ازبکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر علی اسکندری نے تاشقند آنے والے امام رضا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات میں صوبہ خراسان رضوی کی ازبکستان کو برآمدات میں 127 فیصد اضافے کا ذکر کرتے ہوئے علمی اور اقتصادی وفود کی آمد کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے صحت کے شعبے میں سیاحت اور ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں آستان قدس رضوی سے وابستہ کمپنیوں کے کردار کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وسطی ایشیا کی علمی اور صنعتی منڈیوں میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ یونیورسٹی وفود نجی شعبے اور علم پر مبنی کمپنیوں کی معاونت سے سرگرم ہوں، تاکہ تحقیقی منصوبے پیداوار اور پائیدار روزگار کے مواقع میں تبدیل ہو سکیں۔
یک طرفہ منتقلیِ علم کے بجائے ٹیکنالوجی کی ترقی
امام رضا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ ابراہیم دانش فر نے بھی اس نشست میں مشترکہ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ دفتر قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی حکمت عملی محض مصنوعات کی فروخت یا یک طرفہ طور پر علم کی منتقلی تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ’’مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی اور گرین ہائیڈروجن کی پیداوار جیسے شعبوں میں ایران کی ڈیزائننگ کی صلاحیتوں اور ازبکستان کی پیداواری سہولتوں کو یکجا کرکے باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری قائم کی جا سکتی ہے اور مشترکہ مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے ملک کے اندر یونیورسٹی کے کامیاب تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ تصویری تجزیے کے ذریعے زرعی بیجوں کی پیداواریت اور صحت کا جائزہ لینے جیسے خصوصی منصوبے، جو اس سے قبل آستان قدس رضوی کی بیج و پودوں کی کمپنی کے لیے انجام دیے گئے ہیں، ازبکستان کے زرعی شعبے میں مقامی ضروریات کے مطابق نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
تعلیم اور صنعت کے درمیان براہِ راست رابطہ
دانش فر نے طلبہ کو روزگار کی منڈی سے منسلک کرنے کے لیے یونیورسٹی کے تعلیمی ماڈل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت متعدد صنعتی اور ٹیکنالوجی کمپنیاں یونیورسٹی کے طلبہ کی سرپرستی کر رہی ہیں، جبکہ ان کمپنیوں کے تحقیق و ترقی کے منصوبوں کو طلبہ کے نصاب اور تعلیمی ذمہ داریوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار کے نتیجے میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کو صنعتوں میں جلد مواقع فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔
امام رضا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ نے اس تعلیمی ادارے کی انتظامی لچک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آستان قدس رضوی کے علمی و ثقافتی نظام سے وابستگی کے باعث سرکاری اداروں میں رائج بیوروکریسی سے ہٹ کر ماہرین اور باصلاحیت افراد کو ہدف ممالک میں تیزی سے بھیجنے کی سہولت حاصل ہے۔
سائنسی سفارت کاری کی درست تفہیم کی ضرورت
امام رضا انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ڈائریکٹر برائے بین الاقوامی امور ڈاکٹر ابراہیم داوودی نے بھی اس نشست میں کہا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو عالمی تعلیمی ماحول میں عملی تجربہ حاصل ہے، جو علمی اہداف کے حصول کے لیے ایک خصوصی صلاحیت ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے لیے عالمی نظام اور طریقۂ کار کی درست شناخت ضروری ہے۔
انہوں نے اس حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کے آئندہ منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سائنسی سفارت کاری اور خارجہ تعلقات کی ترقی کے لیے جلد ہی اس یونیورسٹی اور ایران کی وزارتِ خارجہ کے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے، جس کے تحت اس شعبے میں ماہرین اور سیاسی شخصیات کی شرکت سے خصوصی ورکشاپس اور تربیتی کورسز منعقد ہوں گے۔
باہمی تعاون کی بنیاد پر سائنسی سفارت کاری
ازبکستان میں ایران کے سفیر نے گفتگو کے ایک اور حصے میں ازبک حکام اور اساتذہ کو مشہد کی علمی صلاحیتوں اور سہولتوں کے دورے کی دعوت دینے کو باہمی تعاون کے فروغ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غذائی صنعت، زراعت اور لیبارٹری کے شعبوں میں آستان قدس رضوی کی نمایاں صلاحیتوں کا تعارف عملی معاہدوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس نشست میں تاشقند میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر علی اسکندری، ازبکستان میں ایران کے ثقافتی مشیر صفرخانی اور مذکورہ سفارت خانے کے دوسرے سیکریٹری سلیمانی نے شرکت کی۔ اس موقع پر بین الاقوامی علمی روابط کے فروغ میں امام رضا انٹرنیشنل یونیورسٹی کی خصوصی ذمہ داری پر زور دیا گیا۔
یونیورسٹی کے وفد نے سمرقند، بخارا اور تاشقند کے تین شہروں کے اپنے مصروف دورے کے دوران تہذیبی روابط کی بحالی اور علم و صنعت کے درمیان تعلق مضبوط بنانے کے مقصد سے ازبکستان کی ممتاز جامعات کے ساتھ تعاون کی سات جامع مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس طرح یونیورسٹی نے عراق سمیت دیگر ممالک میں اپنے کامیاب سائنسی سفارت کاری کے ماڈل کو وسطی ایشیا کے قلب میں بھی نافذ کرنے کی سمت قدم بڑھایا ہے۔
آپ کا تبصرہ