ہسپانوی تجزیہ نگار البرٹو گارسیا واٹسن نے کہا کہ قدس کی اسی اپنی آفاقی شناخت کے ساتھ حفاظت بہت ضروری ہے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر قدس کی یہ آفاقی حیثيت خطرےمیں ہے
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جب تین اہم ادیان امن و سلامتی اور مفاہمت کو فروغ دے رہے ہیں یہودی و صیہونی حلقے سیاسی نظریہ کے تحت امن وسلامتی اوردوستی ومفاہمت کے اصولوں کو پامال کررہے ہيں ۔
اس سینئرصحافی اور سیاسی تجزیہ نگار کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کی پوری تاریخ میں ایسی پیچیدہ سیاسی پالیسی بنائی گئی جو شدت پسندی اور تباہی پر استوار ہے جس کا ہدف ایک مداخلت پسندانہ ایجنڈے کو تین ادیان پر مسلط کرنا تھا جسے امریکہ نے فروغ دیا اور صیہونی حکومت نے نافذ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے بحرانی اور کشيدگی والے دورسے گزر رہے ہیں جس میں اجتماعی قتل عام(نسل کشی) اور تباہ کن قوتوں سے نمٹنے کے لئے امت اسلامیہ کے ہمہ گیر اتحاد کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ عدم استحکام خطے کو خطرے میں ڈال رہا ہے ،مقاومتی و مزاحمتی فورسزطاقت کے اس توازن کو مستحکم کرنے میں خطے کی قوتوں کی مدد کرتی ہیں کیونکہ خطے کی سیاسی قوتیں علاقے میں بحران پیدا کرنے والی طاقتوں کا اکیلے مقابلہ نہيں کرپاتی ہیں
ہسپانوی صحافی اور تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ القدس مسلسل حملوں اور جارحیت کے باوجود اس فینکس افسانوی پرندہ کی طرح دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ استقامت کا مظاہرہ اور پرواز کرے گا تاکہ ثابت کرے کہ شیطانی صیہونی و سامراجی قوتوں کے خلاف القدس کی روحانی اور ہمہ گیراہمیت اپنی جگہ باقی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم کبھی بھی فلسطین اوربیت المقدس کے لئے آواز اٹھانے سے پیچھے نہيں ہٹتے
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی کانفرنس’’ قدس ادیان و مذاہب کا مشترکہ ورثہ‘‘۲۲ رمضان المبارک۱۴۴۴ ہجری قمری کو قومی اور بین الاقوامی شخصیات کی موجودگی میں حرم امام رضا علیہ السلام میں منعقد کی گئی ۔
آپ کا تبصرہ