عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، رضوی ہسپتال کا مسلسل چار سال تک صحت کی خدمات کے قومی سطح کے ممتاز برآمد کنندہ کے طور پر منتخب ہونا، طبی سیاحت کے شعبے میں اس کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔ رضوی سپر اسپیشلٹی ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محسن محور کے مطابق، یہ کامیابی ہسپتال کی خصوصی طبی صلاحیتوں، تشخیصی و علاجی سہولیات اور بیرونِ ملک سے مریضوں کو راغب کرنے اور انہیں خدمات فراہم کرنے کی استعداد کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ طبی سیاحت کے شعبے سے ہسپتال کی سالانہ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی تقریباً 40 لاکھ ڈالر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی روابط کو مضبوط بنانے اور مریضوں کو راغب کرنے کے عمل کو منظم کرنے سے اس صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ عراق، افغانستان اور تاجکستان ان ممالک میں شامل ہیں جہاں سے غیر ملکی مریض رضوی ہسپتال آتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ان مریضوں کی ثقافتی اور فلاحی ضروریات پر توجہ دینا ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔ سفر اور رہائش کے انتظامات سے لے کر مختلف ثقافتوں کی غذائی ترجیحات کا خیال رکھنے اور علاج کے اخراجات میں شفافیت یقینی بنانے تک، ہر پہلو مریض کے لیے ایک بہتر تجربہ فراہم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
محور نے مزید کہا کہ ہسپتال میں طبی سیاحت کے لیے آنے والوں کو ’’زائرینِ صحت‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ طبی سہولیات سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ افراد امام رضا علیہ السلام کے نورانی روضے کی زیارت کی نیت سے بھی مشہد کا سفر کرتے ہیں۔
وسیع طبی صلاحیتیں؛ سرطان کے علاج سے نیوکلیئر میڈیسن تک
تقریباً 40 ہیکٹر رقبے اور لگ بھگ دو لاکھ مربع میٹر تعمیر شدہ جگہ پر مشتمل رضوی ہسپتال مشہد کے بڑے طبی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق، یہاں تقریباً 350 فعال بستروں کی گنجائش ہے، جبکہ مزید 110 بستروں کو استعمال کے لیے تیار کیا جا چکا ہے۔ ان بستروں کے اضافے سے ہسپتال کی مجموعی گنجائش تقریباً 460 بستروں تک پہنچ جائے گی۔
ہسپتال میں امراضِ قلب، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی سرجری، بانجھ پن کے علاج اور سرطان کے علاج سمیت مختلف خصوصی طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ محسن محور نے نیوکلیئر میڈیسن اور ریڈیو فارماسیوٹیکل ادویات کی تیاری کے شعبوں میں ہسپتال کی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا۔ یہ سہولیات سرطان سمیت بعض بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خصوصی طبی آلات اور خدمات کی ترقی کا عمل بدستور جاری ہے۔ چیف ایگزیکٹو نے گردے کی پیوندکاری کا شعبہ قائم کرنے کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں قانونی کارروائی جاری ہے۔
مریضوں کی حفاظت؛ طبی آلات سے بڑھ کر ایک کامیابی
محسن محور کے مطابق، ملک کے محفوظ ہسپتال کا اعزاز حاصل کرنا بھی رضوی ہسپتال کی اہم کامیابیوں میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہسپتال کی حفاظت صرف عمارت کی مضبوطی یا طبی آلات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں متعدد معیارات شامل ہیں، جن میں ماحول اور عملے کی حفاظت، مریضوں کو نقصان سے بچانا اور صحت سے متعلق خطرات پر قابو پانا شامل ہے۔
’’گرین ہسپتال‘‘ کے تصور کا ذکر کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو نے کچرے کے انتظام، گندے پانی کی صفائی اور ماحولیاتی اصولوں کی پابندی کو بھی ہسپتال کی ذمہ داریوں کا حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، خدمات کا معیار صرف علاج کے نتائج سے نہیں بلکہ اس ماحول کی حفاظت اور صحت سے بھی وابستہ ہے جہاں طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
مریضوں کے حقوق کا تحفظ؛ معیاری علاج اور اخراجات میں شفافیت
محور آستان قدس رضوی سے ہسپتال کی وابستگی کو خدمت کے جذبے کو فروغ دینے اور مریضوں کے حقوق پر توجہ دینے کا ایک اہم سہارا قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی کوشش ہے کہ مالی ضوابط کی پابندی، اخراجات پر قابو اور مریضوں پر غیر معمولی اخراجات کا بوجھ ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے خصوصی طبی خدمات فراہم کی جائیں۔
رضوی خاندان؛ خدمت کے لیے 1600 کارکن
رضوی ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کے مطابق، اس ہسپتال میں تقریباً 1600 افراد کام کرتے ہیں، جن میں لگ بھگ 70 فیصد علاجی شعبوں اور 30 فیصد معاونتی خدمات میں مصروف ہیں۔
ڈاکٹروں اور نرسوں سے لے کر خدماتی اور فنی عملے تک، تمام کارکنوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے محور نے انہیں ’’رضوی خاندان‘‘ کا نام دیا۔ انہوں نے کہا: ’’بڑا رضوی ہسپتال ایک خاندان ہے، اور اس کی خدمات کا معیار خاندان کے تمام افراد کے باہمی تعاون پر منحصر ہے۔ عملے کی فلاحی سہولیات میں بہتری، کھیلوں کے لیے جگہ کی فراہمی، بچوں کی نگہداشت کے مرکز کا قیام اور اس بڑے خاندان کی معاشی و فلاحی ضروریات پر توجہ دینا بھی ان اقدامات میں شامل ہے جنہیں ہم نے ہسپتال میں اہمیت دی ہے۔‘‘
رضوی شناخت؛ طبی مہارت اور خدمت کے جذبے کا امتزاج
محور نے مزید کہا کہ آستان قدس رضوی سے ہسپتال کی وابستگی یہاں کام کرنے کی ذمہ داری کو محض علاج معالجے کی خدمات فراہم کرنے سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔ یہ ذمہ داری عملے کے رویّے، مریضوں کے احترام، ان کے اہلِ خانہ کی معاونت اور ہسپتال آنے والوں کے وقار کے تحفظ میں نمایاں ہونی چاہیے، تاکہ صحت اور علاج کے میدان میں بھی روضۂ رضوی کے خادموں کی طرح خدمت انجام دی جا سکے۔
انہوں نے وضاحت کی: ’’بیماری بذاتِ خود مریض اور اس کے اہلِ خانہ کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوتی ہے۔ طبی ادارے کو کوشش کرنی چاہیے کہ مریض کو بیماری کی پریشانی کے علاوہ مزید مسائل اور خدشات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بعض مریضوں کے ساتھ آنے والے افراد کے لیے رہائش کی سہولت فراہم کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔‘‘
آپ کا تبصرہ