عتبہ نیوز کے مطابق یہ تقریب 27 اکتوبر 2026 کو آستان قدس رضوی کی مرکزی لائبریری کے تالارِ اندیشہ میں منعقد ہوئی، جس میں آستان قدس رضوی کی لائبریریوں، عجائب گھروں اور مرکزِ اسناد کے ادارے کے متعدد مدیران، ماہرین اور محققین سمیت دیگر دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
آستان قدس رضوی کے شعبۂ مخطوطات میں قلمی نسخوں کی جانچ اور اندراج کے ماہر سید رضا صداقت حسینی نے بتایا کہ ابوالفضل محمد بن حسین بیہقی چوتھی اور پانچویں صدی ہجری کے ممتاز خراسانی مؤرخین اور ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے تاریخِ بیہقی فارسی زبان میں تحریر کی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ تاریخِ بیہقی غزنوی دور کے واقعات، بالخصوص سلطان مسعود غزنوی کے عہدِ حکومت، کو بیان کرتی ہے۔ ان کے مطابق تحقیق کے نتیجے میں ایران اور بیرونِ ایران کی لائبریریوں میں تاریخِ بیہقی کے مجموعی طور پر 55 قلمی نسخوں کی موجودگی سامنے آئی ہے، جن میں سے تین نسخے آستان قدس رضوی کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔
صداقت حسینی نے مزید کہا کہ اس تقریب میں جس قلمی نسخے کی رونمائی کی گئی، وہ 1207 ہجری قمری میں نستعلیق خط میں لکھا گیا تھا۔ اس کے ہر صفحے پر 21 سطریں ہیں، مجموعی طور پر 210 اوراق ہیں اور اس کا سائز 27 × 17.5 سینٹی میٹر ہے۔ اس نسخے کے پہلے ورق کی پشت پر محمد علی ناصح کا ایک نوٹ بھی موجود ہے، جو ایران کے معاصر شعرا اور ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تاریخ سے متعلق یہ قلمی نسخہ ان آثار میں شامل ہے جو آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای، رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، نے آستان قدس رضوی کی لائبریری کو عطیہ کیے تھے۔ یہ نسخہ 1386 ہجری شمسی کے ماہِ مہر، یعنی ستمبر اور اکتوبر 2007 کے دوران، لائبریری کے حوالے کیا گیا تھا۔
ایرانی ثقافت کا سنہری دور
تقریب کے اگلے حصے میں آستان قدس رضوی کے شعبۂ مخطوطات میں حصول اور عطیات کے ماہر مصطفیٰ فرزانہ نے «بیہقی کی عقل پر مبنی تاریخ نگاری» کے عنوان سے گفتگو کی۔ انہوں نے تین تاریخی ادوار کا جائزہ لیا: تاریخِ بیہقی کی تصنیف سے پہلے کا زمانہ، بیہقی کا عہد یعنی ایرانی ثقافت کا سنہری دور، اور بیہقی کے بعد کا زمانہ، جس میں ایران کی تاریخ نگاری زوال کا شکار ہوئی۔ انہوں نے بیہقی کے بلند مقام اور ان کی تاریخی تصنیف کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
فرزانہ نے کہا کہ بیہقی سے پہلے، ابتدائی اسلامی صدیوں میں، تاریخ نگاری عموماً سادہ بیانی اور افسانوی حکایات کی صورت میں ہوتی تھی۔ اس دور کے مؤرخین علمِ حدیث، علمِ کلام، نقل اور روایت سے استفادہ کرتے تھے، جس کے نتیجے میں تاریخی تحریروں میں متضاد مواد پایا جاتا تھا اور تنقیدی جانچ کا فقدان تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کے ظہور سے پہلے کے بعض ادوار میں مؤرخین بادشاہوں اور درباریوں کی خدمت میں بھی کام کرتے تھے۔
انہوں نے بیان کیا کہ ایرانی ثقافت کے سنہری دور میں، جس کا عروج چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں تھا، تین فکری دھارے باہم ملے: یونانی عقلانیت اور فلسفہ، مذہب کی عقل پسندانہ تعبیر، اور قومی شعور کا تصور۔
فردوسی اور بیہقی جیسی ممتاز علمی و ادبی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محققین نے اس دور کے مؤرخین کو «عقل کی شمع کے محافظ» قرار دیا ہے۔
فرزانہ کے مطابق اگرچہ اس دور میں علمِ حدیث کا اثر بدستور نمایاں تھا اور بیہقی بھی اپنی تاریخ نگاری میں اس کی اصطلاحات استعمال کرتے تھے، تاہم وہ منقول روایات کو عقل کے معیار پر پرکھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیہقی کی تحریروں میں قومی مفادات کا شعور بھی نمایاں ہے۔ وہ افسانہ سازی کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے، اگرچہ انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ لوگ افسانوں اور حکایات کے ذریعے بیان کی گئی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تاریخِ بیہقی کی نمایاں خصوصیات
تاریخِ بیہقی کی اہم خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرزانہ نے کہا کہ عقل کو معیار بنانا، واقعات نقل کرنے میں امانت داری اور ماخذوں پر تنقید اس کتاب کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ بیہقی محض واقعات درج کرنے والے مؤرخ نہیں تھے، بلکہ وہ اپنے معیار اور نقطۂ نظر کے مطابق واقعات کا تجزیہ بھی کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیہقی کے آثار پر تحقیق کرنے والوں نے ان کی نمایاں صفات میں سچائی، حقائق بیان کرنے کی پابندی اور علم کی وسعت کا ذکر کیا ہے۔ ان کی معلومات میں اپنے معاشرے، درباری معاملات اور اپنے زمانے کے علوم و معارف سے گہری واقفیت شامل تھی۔
مقرر نے بیہقی کے نثر نگاری کے اسلوب کو خراسانی طرزِ تحریر کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیہقی کی نثر میں واقعات اور حکایات کو جاندار انداز میں پیش کرنے کا فن نمایاں ہے۔ ان کی تحریر میں الفاظ کی موسیقیت بھی ان کے افکار کی خدمت کرتی ہے، اسی لیے ان کی تاریخ نگاری خشک اور بے روح نہیں ہے۔
فرزانہ نے وضاحت کی کہ بیہقی غزنویوں کے دیوان میں منشی تھے اور ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بادشاہوں کی خدمت میں رہ کر ان کی تاریخ لکھیں گے، لیکن ان کی تصنیف اپنے زمانے کے معاشرے کی مکمل عکاسی کرنے والا آئینہ بن گئی۔ اس اعتبار سے تاریخِ بیہقی صرف بادشاہوں اور حکمرانوں کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک سماجی تاریخ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیہقی سیاسی اقتدار سے کسی حد تک آزاد رہے اور حکمرانوں پر نرم اور متوازن انداز میں تنقید کرتے تھے۔ ان کی تحریر میں شائستگی اور تہذیب نمایاں تھی اور وہ کبھی بھی زبان کے آداب سے تجاوز نہیں کرتے تھے۔
فرزانہ نے عبرت حاصل کرنے اور انسانی فطرت کے مطالعے، بالخصوص افراد کی شخصیت اور نفسیات کے تجزیے، کو بھی تاریخِ بیہقی کی اہم خصوصیات میں شمار کیا۔
انہوں نے کہا کہ عقلانیت اور دینی وابستگی بھی بیہقی کی فکر کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ اگرچہ وہ عقل پر یقین رکھتے تھے، لیکن ساتھ ہی ایک دیندار اور مذہبی عقائد پر ایمان رکھنے والے انسان بھی تھے۔ ان کے مطابق بیہقی کی تحریروں میں یہ دونوں خصوصیات ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معنی پیدا کرتی ہیں۔
بیہقی کے بعد کے دور کے بارے میں فرزانہ نے کہا کہ تاریخ نگاری کا یہ تجزیاتی اور عقل پر مبنی انداز رفتہ رفتہ زوال پذیر ہوا۔ آٹھویں صدی ہجری کے بعد تاریخی جانچ، ماخذوں کی قدر پیمائی اور تنقید، اور تاریخی نتائج اخذ کرنے کا عمل کم ہوتا چلا گیا۔
آپ کا تبصرہ