آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ اس اجلاس میں یونیسکو کے قومی کمیشن کے سیکرٹری جنرل کے سینئر مشیر اور نظامی محقق جناب عبد المہدی مستکین نے ایران کے ادب و حکمت میں حکیم نظامی کے مقام کاجائزہ لیتے ہوئے نظامی کو فارسی زبان اور فارسی ادب کا اہم ستون قرار دیا۔
انہوں نےاس ایرانی شاعر کے چند اشعار کا ذکر کرتے ہوئے یونیسکو کی میموری آف دی ورلڈکا تعارف کرایا اور خمسہ حکیم نظامی کا اس میں اندراج کرنے کے عمل کو بھی بیان کیا۔
اجلاس کو جاری رکھتے ہوئے شعبہ خطاطی کے مصنف اور محقق جناب حمید رضا قلیچ خانی نے خمسہ نظامی کے پانچ نسخوں کے بارے میں جو کہ تہران یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری،ملک لائبریری، کاخ گلستان لائبریری،قومی میوزیم لائبریری اورمدرسہ مطہری کی لائبریری میں رجسٹرڈ ہیں تقابلی موازنہ انجام دیا اوران نسخوں کے فن کارانہ اور تاریخی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
تہران کی شاہد یونیورسٹی کے آرٹ کالج کے سربراہ جناب خشایار قاضی زادہ نے اجلاس کے دوران سپہ سالار لائبریری کے نسخہ کی بصری خوصیات پر روشنی ڈالی۔
اجلاس کے تسلسل میں مکتب ِمصوری کمال الدین بہزادکے محقق نے اس نسخے میں استعمال ہونے والے رنگوں کے معانی بیان کئے ۔
یونیورسٹی کے پروفیسر جناب بہروز عوض پور نے پانچ نسخوں میں استعمال ہونے والی تمثیلات اور تشبیہات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ حکیم کا لقب نظامی کے لئے موزوں ترین لقب ہے ۔
واضح رہے کہ اس اجلاس کے انعقاد کی مناسبت سے خمسہ نظامی کے دونسخہ اس یونیورسٹی میں نمائش کے طور پر رکھے گئے ہیں جو کہ 11 دسمبر2024 تک نمائش میں موجود رہیں گے ۔

ریسرچ ویک کی مناسبت سے ملک نیشنل لائبریری اینڈ میوزیم اور آستان قدس رضوی کے ثقافتی موقوفہ کی سلسل وار خصوصی نشستوں کو جاری رکھتے ہوئے ’’قومی خزانے کے پانچ خزانوں‘‘ کے موضوع پر ہائیر اسکول اورشہید مطہری یونیورسٹی کے تعاون سےتہران میں واقع موقوفاتی مرکز کے کانفرنس ہال میں خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا،جس میں آرٹ کے مختلف شعبوں کے اساتذہ ، فنکاروں،نسخے شناسوں اورآرٹ میں دلچسپی رکھنے والے افرادنے شرکت کی۔
News Code 5334
آپ کا تبصرہ