استنبول سے مشہد تک؛ ترک زائرین کی امام رضا علیہ السلام سے عقیدت کی داستان

ترکیہ سے تعلق رکھنے والے شیعوں کے ایک گروہ نے حرم امام رضا علیہ السلام میں حاضری دے کر زیارت کی اور رواقِ خدمت اور آستان قدس رضوی کی کامیابیوں پر مشتمل نمائش کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں اس ادارے کی سرگرمیوں اور صلاحیتوں سے مزید آگاہ ہونے اور ایران کے سفر اور امام رضا علیہ السلام کے روضۂ منورہ کی زیارت کے اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع ملا۔

ڈاکٹر علیرضا اوتار، ترکیہ کی شیعہ فاؤنڈیشن کے نائب سربراہ، اور ان کی اہلیہ دلبر اوتار، جو ترکیہ میں قرآن کی معلمہ ہیں، ان مہمانوں میں شامل تھے جو زائرین اور شائقینِ زیارت کے ایک گروہ کے ہمراہ مشہد آئے اور آستان قدس رضوی کی کامیابیوں کی نمائش کا دورہ کیا۔

ترکیہ سے مشہد اور کربلا تک زیارتی سفر

ترکیہ کی شیعہ فاؤنڈیشن کے نائب سربراہ ڈاکٹر علیرضا اوتار نے اس ادارے کی سرگرمیوں اور مختلف یورپی ممالک سے شیعوں کے زیارتی سفروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ، بیلجیم، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سے گروہ سال میں دو سے تین مرتبہ زیارتی قافلوں کی صورت میں ایران اور عراق کا سفر کرتے ہیں۔ ان گروہوں کے افراد کی تعداد مختلف ہوتی ہے اور یہ 20 سے 40 یا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

حرم امام رضا علیہ السلام میں غیر ملکی زائرین کو درکار سہولیات کے بارے میں اوتار نے کہا: ’’میری خواہش ہے کہ حرم مطہر کی تاریخ اور اس کے مختلف حصوں سے واقف افراد غیر ملکی زائرین کے ساتھ رہیں اور مناسب موقع پر انہیں حرم کے صحنوں اور مختلف حصوں کے بارے میں وضاحت فراہم کریں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’حرم سے واقفیت اور اس کے مختلف حصوں کے بارے میں جاننا بہت اہم ہے۔ میں خود بھی حرم کی تمام تفصیلات سے واقف نہیں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ایسے رہنما موجود ہوں جو زائرین کی زبانوں پر عبور رکھتے ہوں تو وہ انہیں اس روحانی مقام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔‘‘

میں ایران سے اپنے وطن کی طرح محبت کرتی ہوں

ترکیہ میں قرآن کی معلمہ دلبر اوتار نے بھی اپنی سرگرمیوں اور زائرین کے ساتھ سفر کرنے کے حوالے سے کہا: ’’میں ترکیہ میں شیعہ خواتین کو قرآن پڑھاتی ہوں اور سال میں ایک یا دو مرتبہ اپنے شوہر کے ساتھ سفر کرتی ہوں۔ ان سفروں میں، میں خواتین کو کربلا اور مشہد کی زیارت کے لیے جانے میں مدد دیتی ہوں۔‘‘

ایران سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’مجھے ایران سے بہت محبت ہے۔ یہ ملک مجھے اپنے وطن جیسا لگتا ہے اور یہاں آکر مجھے بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔‘‘

حرم امام رضا علیہ السلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی زائرین کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے اس معلمہ نے کہا: ’’اگر ترکی زبان پر عبور رکھنے والے افراد زائرین کے ساتھ رہیں اور انہیں حرم کے مختلف حصوں اور اس کی تاریخ کے بارے میں بتائیں تو ان کا سفر زیادہ مفید اور بامقصد ہو جائے گا۔ ہم بھی حرم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ایرانی عوام کے ساتھ ترکیہ کے شیعوں کی یکجہتی

اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں دلبر اوتار نے حالیہ واقعات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کی شہادت پر ترکیہ کے شیعوں کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہم نے اپنے علاقے میں ایک بڑی ریلی نکالی۔ لوگ اس پروگرام میں شرکت کے لیے بہت پُرجوش تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں ایران کے پرچم حاصل کرنے میں دشواری پیش آئی، چنانچہ ہم نے استنبول میں پرچم چھپوائے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں تقریباً 15 ہزار شیعہ رہتے ہیں اور مزید کہا: ’’جب اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کی شہادت کی خبر سامنے آئی تو ہم بہت فکرمند اور غمگین ہوئے۔ ان دنوں ہم تعزیت پیش کرنے کے لیے استنبول میں ایرانی قونصل خانے گئے اور تعزیتی پیغامات بھی بھیجے۔‘‘

ایران کے حالات پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’ایران سے باہر ہونے کے باوجود ہم اس ملک میں پیش آنے والے واقعات پر فکرمند اور غمگین رہتے ہیں۔ یہاں موجودگی کے دوران بھی یہ احساسات ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔‘‘

آستان قدس رضوی کی وسیع سرگرمیوں سے آگاہی

آستان قدس رضوی کی کامیابیوں کی نمائش کے دورے کے بارے میں دلبر اوتار نے کہا: ’’یہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ امام رضا علیہ السلام سے وابستہ اتنا وسیع ادارہ موجود ہے، جس کے مختلف شعبے، سرگرمیاں اور خدمت گزاروں کی بڑی تعداد ہے۔‘‘

مختلف مذہبی شہروں میں زیارت کے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا: ’’ہم کربلا اور نجف سے مشہد آئے ہیں۔ میرے ساتھیوں کو بھی اس شہر اور حرم امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے بعد اس سے بہت محبت ہو گئی ہے۔ مشہد ہمارے لیے ایک خاص روحانی کیفیت رکھتا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ اس شہر میں آنے اور امام رضا علیہ السلام کی زیارت کا شرف عطا فرمائے۔

News Code 10343

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha