عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی انقلاب کے رہبر کے دفتر کے شعبۂ تحقیقات کے اقتصادی جائزہ ورکنگ گروپ کے سربراہ سید احسان خاندوزی نے استکبار مخالف معیشت کی تشکیل کے تقاضوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ استکبار مخالف جدوجہد نہ محض ایک نعرہ ہے اور نہ ہی صرف ایک منفی اقدام؛ بلکہ یہ فیصلہ سازی کا حق واپس حاصل کرنے اور قوموں کو ایسی صورتِ حال سے آزاد کرانے کی ایک شعوری کوشش ہے جس میں ان کی پالیسیاں قومی مفادات کے بجائے غالب طاقتوں کی خواہشات کے مطابق تشکیل پاتی ہیں۔
خاندوزی نے کہا کہ اقتصادی استکبار کا مقصد صرف وسائل کی لوٹ مار تک محدود نہیں، بلکہ استکباری طاقتیں فیصلہ سازی، پیداوار اور لین دین کے تصفیے کے اہم مراحل کو اس طرح اپنے ساتھ وابستہ کرنا چاہتی ہیں کہ قومیں ان کی اجازت کے بغیر سوچنے، تعمیر کرنے اور مزاحمت کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اس کا مقصد انحصار کو ادارہ جاتی شکل دینا اور نگرانی کے خلا پیدا کرنا ہے تاکہ قوموں کی طاقت اندر سے کمزور ہو جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایسا ہر اقدام جو قومی صلاحیت کو کمزور کرے یا انحصار کی گرہیں پیدا کرے، خواہ اس کے ساتھ استکبار مخالف نعرے ہی کیوں نہ لگائے جائیں، عملاً استکباری طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ اقتصادی میدان میں قومی طاقت کا مطلب یہ ہے کہ منصفانہ ترقی کے عمل کی قیادت عوام اور ریاست کے اختیار میں ہو، مالیاتی، زرّی اور تجارتی اداروں کی نگرانی ممکن ہو، قومی پیداوار مضبوط بنائی جائے اور آزادانہ فیصلہ سازی کو فروغ دیا جائے۔
اسلامی انقلاب کے رہبر کے دفتر کے شعبۂ تحقیقات کے اقتصادی جائزہ ورکنگ گروپ کے سربراہ نے مزید کہا کہ انحصار اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاست اپنی نگرانی نافذ نہ کر سکے، کوئی بیرونی فریق ایک فیصلے کے ذریعے ملکی معیشت کو دباؤ میں ڈال سکے یا قومی وسائل عوام کی پیداواری صلاحیت اور معاشی بنیاد مضبوط کرنے کے بجائے امتیازی سلوک اور ناجائز مراعات کا ذریعہ بن جائیں۔
سیاسی مؤقف اور اقتصادی ڈھانچوں میں فرق واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استکبار مخالف جدوجہد کا اظہار بینکاری، تجارت اور زرِ مبادلہ کے نظام، وسائل کی تقسیم اور ملکی بجٹ میں بھی ہونا چاہیے۔ اگر یہ ڈھانچے انحصار کو دوبارہ پیدا کرتے رہیں تو استکبار مخالف نعرے بے اثر ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے تجارتی لین دین کا تصفیہ ایسے مراکز سے وابستہ رہنا جن پر امریکی وزارتِ خزانہ کی نگرانی ہو، اور ساتھ ہی استکبار کی مخالفت کا اعلان کرنا، ایک ساختی تضاد ہے۔
خاندوزی نے اقتصادی انحصار کی تین سطحوں، یعنی ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور سیاسی معیشت، کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہارڈویئر کی سطح پر ممکن ہے کہ پیداوار ملک کے اندر ہو، لیکن اس کا تسلسل کسی ایسے پرزے، ٹیکنالوجی یا اسٹریٹجک شعبے پر منحصر ہو جس کا اختیار ملک سے باہر کسی فریق کے پاس ہو۔
سافٹ ویئر کی سطح کے بارے میں انہوں نے کہا کہ استکباری طاقتیں اشیا فروخت کرنے سے پہلے صارفین کی پسند اور ذوق تشکیل دیتی ہیں۔ اشتہارات، برانڈز اور صارفیت و آسائش پسندی کے فروغ کے ذریعے وہ اپنے مفادات کو قوموں کے طرزِ زندگی میں راسخ کرتی ہیں۔ سیاسی معیشت کی سطح پر ایسے گروہ بھی موجود ہوتے ہیں جو ملک کے انحصار برقرار رہنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انحصار کی مکمل ترین شکل اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی قوم خودمختاری کو محرومی اور انحصار کو ترقی سمجھنے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں اچھائی اور برائی کی پہچان کے پیمانے الٹ جاتے ہیں اور عوام کو احساس ہوئے بغیر انحصار دوبارہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے استکبار مخالف اقتصادی پالیسی کو بیک وقت ان تینوں سطحوں پر توجہ دینی چاہیے۔
معیشت کے اندر سے تسلط کو مضبوط کرنے والے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے خاندوزی نے کہا کہ استکباری محاذ کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ قومی مفادات کے خلاف کوئی کھلا اقدام کیا جائے؛ کسی بڑے مالیاتی ادارے کو نگرانی سے باہر نکلنے دینا، زرِ مبادلہ کے نظام کو کسی بیرونی راستے پر منحصر کرنا یا درآمدات کے دباؤ میں قومی پیداوار کو کمزور کرنا بھی مخالف فریق کے لیے دباؤ کے ذرائع پیدا کر سکتا ہے۔
زرِ مبادلہ کے لین دین کے تصفیے میں انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے زرِ مبادلہ کے تصفیے کسی ایسی غیر ملکی حکومت کی مرضی سے وابستہ نہیں ہونے چاہییں جو خود امریکی دباؤ کے تحت فیصلے کرتی ہو۔ ان کے مطابق، یہاں مسئلہ لازماً غداری کا نہیں، بلکہ معیشت کے اہم اور حساس مقامات پر ریاستی اختیار کے غیر مؤثر ہو جانے کا ہے۔
خاندوزی نے خارجہ پالیسی اور اقتصادی ماڈل کے درمیان ہم آہنگی کو شہید رہبر (رحمۃ اللہ علیہ) کے فکری نظام کی ایک نمایاں خصوصیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہبر استکبار کے مقابلے میں پیش قدمی اور آزادی کی تحریکوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ ایسے اقتصادی ماڈل کی بھی حمایت کرتے تھے جس کا محور مزاحمت اور پائیداری، قومی اور علم پر مبنی پیداوار، عوام کی وسیع شمولیت، عدل اور بدعنوانی کے خلاف واضح جدوجہد تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ماڈل میں خارجہ تعلقات کا رخ ہمسایہ، ہم خیال، مسلم ممالک اور عالمی جنوب کے ممالک کی جانب تھا، جبکہ معیشت کو امریکہ پر انحصار کے دائروں میں دوبارہ محدود کرنے پر بھروسا نہیں کیا جاتا تھا۔
خاندوزی نے پابندیوں کے دباؤ، بینکاری و تجارتی محدودیتوں اور مسلط کردہ جنگوں کے مقابلے میں ایران کی پائیداری کو اس فکری نظام کے بعض حصوں پر عمل درآمد کا نتیجہ قرار دیا۔ اس کے برعکس، قومی کرنسی کی قدر میں کمی، شمالی-جنوبی راہداری کے منصوبوں کی تکمیل نہ ہونا اور مشرقی و ابھرتی ہوئی معیشتوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں اتار چڑھاؤ جیسے مسائل، حکومتی اداروں میں اسی طرزِ فکر پر مسلسل عمل نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔
آخر میں خاندوزی نے امید ظاہر کی کہ استکبار مخالف معیشت کے وہ پہلو جو اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے، انہیں زیادہ تیزی اور سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی معیشت کی جانب پیش رفت ضروری ہے جس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ محض اعلانیہ مؤقف تک محدود نہ ہو بلکہ ایک خودمختار ایران اور عالمی استکبار کے خلاف عوامی جدوجہد سے ہم آہنگ ہو۔
آپ کا تبصرہ