عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، تہران یونیورسٹی کے پروفیسر اور ’’مجاہدین در غربت‘‘ بین الاقوامی اجلاس کی مجلسِ صدارت کے رکن فؤاد ایزدی نے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی ایک واضح حقیقت ہے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ دشمنی کس سمت جا رہی ہے۔ اگر امریکہ زوال کی جانب گامزن ہو اور ایران مزاحمت جاری رکھے تو دشمن کی قوت میں بتدریج کمی کے ساتھ حالات تبدیل ہوں گے؛ اس کے برعکس، اگر امریکہ اپنی طاقت برقرار رکھتا ہے یا اس میں اضافہ کرتا ہے تو ہمارے سامنے مختلف تقاضے اور چیلنجز ہوں گے۔
ایزدی نے ایتھنز میں امریکی وزیر خارجہ کی حالیہ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس تقریر میں امریکہ کی تہذیبی جڑوں کو قدیم یونان سے جوڑا اور ایتھنز اور ایرانیوں کے درمیان تاریخی کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے آج کے مغرب کو درپیش چیلنجز کے مقابلے میں اس تجربے سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے یورپیوں کے بحری سفر اور دنیا میں ان کے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کا بھی ذکر کیا اور اس دور کی بات کی جو مغرب کی ترقی اور برتری کی بنیاد بنا۔ اگرچہ انہوں نے استعمار کا لفظ استعمال نہیں کیا، تاہم میرے خیال میں ان کی تجویز مغرب کی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے نوآبادیاتی تجربے کو دہرانے کے مترادف ہے۔
تہران یونیورسٹی کے اس پروفیسر نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے اس مقصد کے لیے دس سال کی مدت متعین کی اور خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھانے اور حالات کو سنبھالنے میں ناکام رہے تو انہیں زوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا امریکہ کے زوال کا موضوع محض سیاسی گفتگو نہیں، بلکہ اس حوالے سے تشویش کے آثار اعلیٰ مغربی حکام کے بیانات میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایزدی نے دنیا میں طاقت کی آئندہ تقسیم کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس اداروں کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان جائزوں میں طاقت کی منتقلی نیٹ ورکس اور اتحادوں کی جانب ہونے اور ایسی صورتِ حال کا ذکر کیا گیا ہے جس میں کوئی ایک غالب طاقت تنہا فیصلہ کن کردار ادا نہیں کر سکے گی۔
امریکی بالادستی کے مقابلے میں ایران کی مزاحمت کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخالف فریق اس محاذ آرائی کو تہذیبی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اسے ایران کے مسئلے کو حل کرنے کا ایک موقع مل گیا ہے۔ اس لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اس محاذ آرائی کا اصل ہدف خود ایران ہے۔
اجلاس کی مجلسِ صدارت کے رکن نے اسلامی انقلاب کے شہید رہبر (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کے بارہ بہمن کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کو مایوس کرنا اس رویے کا مقابلہ کرنے کا راستہ قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکیوں کو اس نتیجے پر پہنچنا چاہیے کہ ایران کو زیر کرنا اور اس کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنا ان کی طاقت سے باہر ہے۔
آخر میں ایزدی نے ایران کے دشمنوں کو ناکام بنانے کے راستے میں مجاہدین کی کوششوں کو سراہا اور ان کی سرگرمیوں پر قدردانی کا اظہار کیا۔
آپ کا تبصرہ