عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حرمِ مطہر رضوی کے معاون برائے تبلیغاتِ اسلامی حجۃ الاسلام حسین شریعتی نژاد نے یہ بات یکم نومبر 2026ء کو قبل از دوپہر حرمِ مطہر رضوی کے دفترِ معاونتِ اماکن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہی، جس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا: ’’اعتکاف کا انعقاد اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد رائج ہونے والے مؤثر ترین عبادتی پروگراموں میں سے ایک ہے، جسے گزشتہ برسوں کے دوران عوام، بالخصوص نوجوان نسل کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔‘‘
شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کے اس عبادتی عمل کے فروغ میں کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اعتکاف پر آپ کی تاکید نے معاشرے میں اس عبادت کے فروغ کی راہ ہموار کی۔ آج یہ روحانی موقع انسان کے خداوندِ متعال سے تعلق کو مضبوط بنانے اور دینی عقائد کو مزید گہرا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
معرفتی پروگراموں کا مرکزی محور شہید رہبرِ انقلاب کی تصانیف
حجۃ الاسلام شریعتی نژاد نے مسجد جامع گوہرشاد کی اعتکاف کے انعقاد کے حوالے سے ایک مثالی مرکز بننے کی صلاحیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمِ اسلام میں بھی اس عبادتی روایت کو فروغ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: ’’امسال اعتکاف کا شعار ’اعتکاف؛ امامِ شہید کی حکمتِ عملی اور امتِ مبعوث کی ذمہ داری‘ منتخب کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے ثقافتی اور معرفتی پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں، تاکہ معتکفین روحانی فیوض سے مستفید ہونے کے ساتھ شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کی سیرت اور افکار سے بھی زیادہ گہری واقفیت حاصل کرسکیں۔‘‘
مسجد گوہرشاد میں تین ہزار افراد کی گنجائش کے ساتھ اعتکاف
امسال کے ثقافتی پروگراموں کی وضاحت کرتے ہوئے معاون برائے تبلیغاتِ اسلامی نے بتایا کہ شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کی تحریری تصانیف، جن میں تفسیری کتب اور وہ کتابیں بھی شامل ہیں جن پر آپ نے تقریظ یا حاشیہ تحریر فرمایا ہے، مطالعے اور لائبریری کے حصوں میں معتکفین کے لیے فراہم کی جائیں گی۔
ان کے مطابق، ایک کتاب کو مرکزی کتاب کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر مطالعاتی سرگرمیاں اور کتاب خوانی کے مقابلے منعقد ہوں گے۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے ان کی عمر اور ضروریات کے مطابق خصوصی پروگرام بھی ترتیب دیے گئے ہیں۔
حجۃ الاسلام شریعتی نژاد نے مزید کہا کہ معرفتی نشستیں، دینی اساتذہ اور ماہرین کی شرکت سے سوال و جواب کی محافل، تلاوتِ قرآن کی مجالس اور صحیفۂ سجادیہ و نہج البلاغہ کے تدبر اور تفسیر کے سیشن بھی امسال کے اعتکاف کے دیگر پروگراموں میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 50 معتکفین کی شرکت سے نمازِ ظہر و عصر اور نمازِ مغرب و عشا کے بعد معرفتی نشستیں منعقد ہوں گی، جن میں ماہرین عقائد، شرعی احکام اور شرکا کی ضروریات سے متعلق سوالات کے جوابات دیں گے۔
اس کے علاوہ مسجد جامع گوہرشاد میں ہر رات 9 بجے حالاتِ حاضرہ اور عالمی استکبار کے موضوعات پر دو نشستیں منعقد ہوں گی۔ معتکفین اجتماعی اجتماعات اور عمومی پروگراموں میں بھی شرکت کریں گے۔
ماہِ رجب کی مناسبتوں کے خصوصی پروگرام
انہوں نے مزید بتایا کہ 13 رجب کی شب، حضرت امام علی علیہ السلام کے یومِ ولادت کی مناسبت سے معتکفین کے استقبال کی تقریب منعقد ہوگی۔
15 رجب کی شب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے یومِ شہادت کی مناسبت سے بھی خصوصی پروگرام رکھا گیا ہے۔ معتکفین 15 رجب کو نمازِ جمعہ میں شرکت کریں گے، جس کے بعد اعمالِ اُمِّ داؤد کا آغاز ہوگا۔
دعائے اُمِّ داؤد حاج مہدی سروری کی شرکت سے تقریباً شام 4 بجے پڑھی جائے گی اور نمازِ مغرب و عشا کے بعد اعتکاف کے پروگرام اختتام پذیر ہوں گے۔
اعتکاف کے لیے رجسٹریشن 3 نومبر سے شروع ہوگی
پریس کانفرنس کے دوران آستان قدس رضوی کے معاون برائے اماکنِ متبرکہ امین بہنام نے معتکفین کی گنجائش بڑھا کر تقریباً تین ہزار افراد کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد جامع گوہرشاد میں دستیاب جگہوں سے استفادہ کرتے ہوئے امسال تقریباً 1500 افراد کو بالائی منزل کے شبستانوں میں اور مزید 1500 افراد کو مسجد کے زیرِ زمین حصے میں ٹھہرایا جائے گا۔
زیرِ زمین حصے کی تیاری، بالخصوص گرمی اور سردی سے بچاؤ کے انتظامات، حرمِ مطہر رضوی کے ادارۂ تعمیر و نگہداشت کے تعاون سے جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواہش مند افراد کی رجسٹریشن منگل، 3 نومبر سے شروع ہوکر 12 نومبر تک جاری رہے گی۔
قرعہ اندازی 20 نومبر کو ہوگی اور نتائج 24 نومبر کو ایس ایم ایس کے ذریعے اعلان کیے جائیں گے۔ خواہش مند افراد رضوی اعتکاف کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنا اندراج کراسکتے ہیں۔
مسجد گوہرشاد کے گزشتہ سال کے اعتکاف میں وسیع پیمانے پر عوامی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے بہنام نے بتایا کہ اس پروگرام میں شرکت کے لیے تقریباً 96 ہزار افراد نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں لگ بھگ 70 فیصد خواتین تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 27 ممالک سے تقریباً 3600 درخواست گزاروں نے بھی اس اعتکاف میں شرکت کے لیے اندراج کرایا تھا، جن میں سب سے زیادہ تعداد افغانستان، پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔
آستان قدس رضوی کے معاون برائے اماکنِ متبرکہ نے بتایا کہ جغرافیائی تقسیم کے لحاظ سے صوبۂ خراسان رضوی تقریباً 59 ہزار درخواست گزاروں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد تہران تقریباً 9 ہزار، اصفہان تقریباً 8500 اور یزد تقریباً 2140 درخواست گزاروں کے ساتھ اگلے نمبروں پر رہے۔
امسال معتکفین کی گنجائش میں اضافے پر زور دیتے ہوئے بہنام نے کہا: ’’اعتکاف میں شرکت کے خواہش مند افراد کی جانب سے ہمیشہ یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ مسجد گوہرشاد میں اعتکاف کی گنجائش محدود کیوں ہے؟ گزشتہ برسوں میں سرد موسم اور بعض محدودیتوں کے باعث صحنوں اور ایوانِ مقصورہ کو معتکفین کی رہائش کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے ہمیں گنجائش مسجد کے شبستانوں تک محدود رکھنا پڑتی تھی۔
’’تاہم امسال مسجد جامع گوہرشاد کے زیرِ زمین حصے کی تکمیل اور حرمِ مطہر رضوی کے ادارۂ تعمیر و نگہداشت کی کوششوں کے پیشِ نظر اعتکاف کی گنجائش تقریباً دوگنا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ لڑکیاں 12 سال اور لڑکے 14 سال کی عمر سے اعتکاف کے لیے رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ درخواست گزاروں کی عمریں 10 سے 81 سال کے درمیان تھیں، تاہم قرعہ اندازی کے عمل میں لڑکیوں کے لیے کم از کم عمر 12 سال اور لڑکوں کے لیے 14 سال مقرر کی گئی ہے۔
بہنام نے یاد دلایا کہ مسجد جامع گوہرشاد میں اعتکاف کا آغاز 1958ء میں مرحوم حاج آقا عابدزادہ کی کوششوں سے شبستان تبریزی میں ہوا تھا اور 1993ء سے یہ پروگرام باقاعدہ اجتماعی اور مرکزی انداز میں منعقد کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معتکفین کی گنجائش میں اضافہ اور معرفتی و ثقافتی پروگراموں کو تقویت دینا، امسال منتظمین کی بنیادی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد حرمِ مطہر رضوی میں اس عبادتی عمل کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔
آپ کا تبصرہ