تاریخ نے اس سے پہلے کسی جنازے میں ایسی شان و عظمت نہیں دیکھی تھی۔ عراق کے عوام نے دل و جان سے شہید قائد کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن کی دیرینہ آرزو کربلا اور نجف کی زیارت تھی۔ عراقی عوام اور ان کے اہلِ خانہ کی کتنی خواہش تھی کہ وہ آپ سے زندگی میں ملاقات کرتے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر تکریم و تعظیم بجا لاتے۔
مہمان نوازی عربوں کی روایت ہے، اور امام حسین علیہ السلام کے زائرین سے محبت ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اب ہماری باری ہے؛ ہماری باری ہے کہ اس عظیم الشان جلوسِ جنازہ اور عراقی عوام کی بے مثال مہمان نوازی پر ان کا شکریہ ادا کریں اور انہیں خراجِ تحسین پیش کریں۔
اسپند کی خوشبو میں خدام کی چشم براہ نظری
رات کے نو بجے گزر چکے ہیں۔ حرمِ مطہر رضوی کے بابِ شیخ طوسی کے سامنے خدام سادہ لباسِ خدمت میں، ہاتھوں میں سلگتا ہوا اسپند لیے کھڑے ہیں۔ اسپند کی خوشبو فضا میں بلند ہو رہی ہے اور میں اس ادب، احترام اور مہمان نوازی کی خوشبو اپنے دل و دماغ میں سمو رہا ہوں، جو ہماری تہذیب و روایت کی رگ و پے میں رچی بسی ہے۔
عرب مرد، عمر رسیدہ بزرگ، قبائلی عمائدین اور عراقی شیوخ دشداشہ پہنے ہوئے ہیں۔ ان کے کندھوں پر عربی عبا ہے اور سروں پر عقال سے بندھی چفیاں سجی ہیں۔
وہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، قطار در قطار، بارگاہِ رضوی کی جانب بڑھتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص آگے آتا ہے اور عربی زبان میں زائرین کے لیے اشعار پڑھتے ہوئے ان کی آمد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
عرب مردوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں، مگر ان کے قدم مضبوط اور پُرعزم ہیں۔ ہم بابِ شیخ طوسی کے داخلی دروازے کے قریب پہنچتے ہیں۔ سب مل کر اذنِ دخول پڑھتے ہیں۔ ان کے مضبوط مردانہ کندھے باری باری لرزنے لگتے ہیں۔
’’لبیک یا خامنہ ای‘‘؛ حریمِ رضوی میں عرب شیوخ کی ہم آواز صدائیں
ہم ان کے ہمراہ صحنِ جمہوری میں داخل ہوتے ہیں۔ آستان قدس رضوی کے متولی اور حرمِ مطہر رضوی کے اعلیٰ منتظم ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان عرب مہمانوں میں سے ایک شخص متولی کو دیکھتے ہی عربی لہجے میں فارسی زبان کے الفاظ ادا کرتے ہوئے، گلوگیر آواز میں بلند نعرہ لگاتا ہے: ’’لبیک یا خامنہ ای، لبیک یا حسین!‘‘
ایک ایک کرکے تمام عرب مرد اس کے ساتھ ہم آواز ہو جاتے ہیں:
’’لبیک یا قائد! الموت لأمریکا! الموت لإسرائیل! الموت لأمریکا! الموت لإسرائیل! لبیک یا خامنہ ای!‘‘
اسی دوران قبائلی شیوخ میں سے ایک اور شخص آگے بڑھتا ہے اور یہ نعرہ بلند کرتا ہے:
’’ابوالفضل علمدار، خامنہ ای نگہدار! ابوالفضل علمدار، خامنہ ای نگہدار!‘‘
وہ نہایت شان و شوکت کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے ہیں۔ ضریحِ مبارک کے قریب پہنچتے ہیں، رک جاتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
اے عرب بھائیو! آپ کے ادب و احترام کا کیا کہنا! اور رہبرِ انقلاب کی جانب سے اپنے مہمانوں کے لیے یہ کتنی شاندار تکریم ہے! حریمِ امنِ رضوی میں آپ سب کو خوش آمدید۔
آپ کا تبصرہ