۲۰۲۳ میں آستان قدس رضوی کی اقتصادی کامیابیاں/شفافیت اور پروڈکٹیوٹی صلاحیت میں اضافے سے لے کر پیداوار اور برآمدات میں اضافے تک

آستان قدس رضوی کی اوقاف پروڈکٹیوٹی فاؤنڈیشن کے منتظمین اور سربراہان کے ۹ویں اجلاس میں اوقاف پروڈکٹیوٹی فاؤنڈیشن کی ماتحت کمپنیوں کی اقتصادی کامیابیوں پر باہمی ہمفکری اور بات چیت کی گئی جن میں شفافیت ،پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے ساتھ پیداواری صلاحیتوں میں بہتری اور منظور شدہ بجٹ کی مطلوبہ وصولی جیسے اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔

عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ یہ اجلاس آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے سیمنار ہال میں منعقد کیا گیاجس میں آستان قدس رضوی کی اوقاف پروڈکٹیوٹی فاؤنڈیشن کےسربراہان اور ذیلی اداروں کے منیجنگ ڈائریکٹرز اور بورڈ ممبران نے شرکت فرمائی۔

آستان قدس رضوی کی اوقاف پروڈکٹیوٹی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے بتایا کہ رواںسال میں پانچ سو فیصدسے زیادہ مقبوضہ اراضی پر دوبارہ سے قبضہ لے لیا گیا ہے ،اس کے علاوہ اراضی کے استعمال کے لئے بہت اچھے اقدامات انجام دینے کی وجہ سے ۲۰  فیصد زمینوں کا مسئلہ جو سٹی منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں تنازعات کی وجہ سے پیدا ہوا تھا حل کر دیا گیا ہے۔

جناب ڈاکٹر سید مہدی سدیدی نے بتایا کہ ۲۰۲۳ میں کمپنیوں اور اقتصادی اداروں کے پیداواری،فروخت،آپریٹنگ اور منافع کے شعبوں میں۷۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ،اس کے علاوہ گزشتہ ۹مہینوں کے دوران رضوی کمپنیوں اور اقتصادی اداروں کے بجٹ کا ۷۵ فیصد سے زائد حصہ وصول کر لیا گیا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ۲۰۲۳ میں چھ ماہ سے کم عرصے کے دوران رضوی یسٹ اینڈ ٹیکسٹائل کمپنیوں اور خراسان کی نخریسی خسروی کمپنی کے شیئرز مارکیٹ میں پیش کئے گئے ہیں
 

پیداواری صلاحیتیں بڑھانے کے لئے نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن

انہوں نے اوقاف پروڈکٹیوٹی فاؤنڈیشن کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے دو نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ’’مدبر‘‘کمپنی جو کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے  اور اس کے علاوہ ’’ایسٹرن ڈولپمنٹ‘‘ کمپنی نے بھی سرگرمیاں شروع کی ہیں ،یہ کمپنیاں اپنی صلاحیتوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اوقاف پروڈکٹیوٹی فاؤنڈیشن کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

۲۰۲۴ کے بجٹ کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے نئے آئیڈیاز کے نفاذ کی ضرورت
جناب ڈاکٹر سدیدی نے اس اجلاس کے دوران آستان قدس رضوی کے ۹۵ فیصد بجٹ کی وصولی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ روزانہ کی بنیاد پر آستان قدس رضوی کے خزانے میں جمع کیا جاتا ہے تاکہ اس طرح سے شیعہ مذہب اور زائرین و مجاورین اس بجٹ سے مسفید ہو سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ آستان قدس رضوی کے ۹۳ فیصد سے زیادہ اثاثے جائیداداور زمینوں سے متعلق ہیں ،ان تمام موقوفات کو اب تک نہایت مناسب طریقے سے اور ووقف نامے کے مطابق استعمال میں لایا گیا ہے ۔
انہوں نے مزید یہ بتایا کہ ۲۰۲۳ کا بجٹ گزشتہ تین سالوں کے بجٹ کے برابر تھا ،اگرچہ ہمیں بہت ساری کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں اس کے باوجود اگلے سال کے بجٹ کے نفاذ کے لئے ہمیں ایک دشوار راستہ طے کرنا ہوں گا اورنئے منصوبوں اور آئیڈیاز کو عملی جامعہ پہنانے کی ضرورت ہوگی ۔

اجلاس کے دوران شاہد یونیورسٹی کے شعبہ قانون اور اکیڈمک فیکلٹی ڈائریکٹرنے عوام کاآستان قدس رضوی پر جو اعتماد ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بہت سارے لوگوں کے پاس نقد رقم موجود ہے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس کو کیسے استعمال میں لائیں،ایک طریقہ تو یہ ہے کہ قابل اعتماد کمپنیوں کے شیئرز خریدیں یا ان میں سرمایہ کاری کریں۔
 جناب ڈاکٹر ابوالقاسم خدادی نے کہا کہ ان چھوٹی رقوم کو اکھٹا کر کے بڑے بڑے منصوبے بنائے جا سکتے ہیں اگر لوگ کمپنیوں پر اعتماد کریں اور کمپنیاں بھی لوگوں کے مفادات کے مطابق کام کریں تو یقیناً لوگ اپنی رقوم سے ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں گے۔

تعلیمی و تحقیقی ادارے امام خمینی(رہ) کے شعبہ تصوف کے اسسٹنٹ پروفیسر جناب ڈاکٹر داود حسن زادہ نے اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں اس بات کی معرفت حاصل ہو گئی کہ امام رضا علیہ السلام لوگوں کے حالات سے واقف اور آگاہ ہیں تو یقیناً یہ معرفت ہماری خدمت  کرنےمیں بھی مؤثر ثابت ہوگی۔

جناب ڈاکٹر داود حسن  زادہ نے حضرت امام علی رضا(ع) کے اثاثوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خدمت کے لئے تقوی اور پرہیزگاری کے ساتھ امام رضا علیہ السلام کی معرفت  ایک بنیادی عنصر ہے اور درحقیقت اس پاکیزگی کے بغیر آپ کبھی بھی خدمت نہیں کر سکتے ۔
 

News Code 3410

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha