آرگنائزیشن آف لائبریریز کے ۱۲ تحقیقاتی منصوبوں سے نقاب کشائی

ہفتہ ریسرچ و تحقیقات کی مناسبت سے آستان قدس رضوی کے علمی و ثقافتی ادارے کے ہفتہ وار پروگراموں کی ۱۹۳ ویں سیریز میں آرگنائزیشن آف لائبریریز،میوزیمز اور آستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکزکے ۱۲ تحقیقاتی منصوبوں سے نقاب کشائی کی گئی ۔

عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کے علمی و ثقافتی ادارےکے شعبہ پروگرامنگ اور منصوبہ بندی کےمعاونِ خصوصی اور نائب ڈائریکٹر جناب جعفر مرواریدنے  آستان قدس رضوی کی مرکزی لائبریری کے قدس ہال کے داخلی دروازے پر منعقد ہونے والی اس تقریب کے دوران تحقیق اور ریسرچ کو ہر ادارے کا تھنک ٹینک قرار دیا۔

انہوں نے لائبریری کو روایتی نقطہ نظر کے علاوہ جو کہ اسٹڈی ہال اور کتابوں کے تبادلے اور کتابوں کو امانت دینے کا مرکز جاننے کے ساتھ ساتھ اسے ایک سماجی اور بین الاقوامی ادارہ اور آرگنائزیشن قرار دیا جس کی بنیادیں ایران اسلامی کی قدیمی تہذیب میں ملتی ہیں۔

 جناب مرواریدنے لائبریریز  اور کتب خانوں کو سماجی تبادلے کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکتب خانوں،اسکولوں ،گھروں اور بازاروں کے قریب لائبریریز اور کتب خانوں کی موجودگی ان کے سماجی و ثقافتی کردار کی نشاندہی کرتی ہے ۔
مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے مختلف تہذیبوں کے ساتھ ثقافتی تبادلے رہے ہیں جس کے نتیجے میں بہت ساری اقوام سے مختلف علوم اسلامی ثقافت میں داخل ہوئے جنہیں دوبارہ اسلامی رنگ کے ساتھ مغربی سرزمینوں میں ایکسپورٹ کیا گیا اور ان تمام مراحل میں لائبریریز اور کتب خانوں کا اہم کردار ہے ۔

گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج کی اس فضا میں ممتاز اور قابل افراد کے لئے محفوظ اور پر امن ماحول نہیں ہےاس لئے لائبریریز کا پہلا اقدام ان ممتاز اور لائق افراد کی فعالیت اور سرگرمیوں کے لئے مناسب ماحول اور مواقع فراہم کرنا ہیں۔

جناب مروارید نے دنیا کے علمی ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے جب بھی کوئی علمی اور تحقیقاتی فعالیت انجام دی جاتی تو اس کا مرکز یونیورسٹی ہوا کرتی تھی لیکن اب تقریباً ایک دہائی سے بنیادی علوم کے مراکز قائم ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ ان علمی و تحقیقاتی سرگرمیوں کو ان مراکز میں بھی انجام دیا جاتا ہے ،لائبریریز اور کتب خانوں کو ان بنیادی علوم کے مراکز سے متاثر ہونا چاہئے کیونکہ اس وقت علم کی روح لائبریریز میں موجود ہے ۔

جناب مروارید نے لائبریریز،میوزیمز اور دستاویزاتی مراکز کو شہر میں شہر کی خدمت کے مراکز قراردیتے ہوئے کہا کہ اس کا ایک کام شہریوں کو تعلیم دینا ہے ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ لائبریری ،زائر محورہے اس لئے توقع کی جاتی ہے کہ رضوی لائبریری اوراس کے منتظمین کی جانب سے زیارت کی نفسیات،حرم مطہر کے تاریخی مقامات کے مطالعہ اور زیارت کی پالیسیوں جیسے موضوعات پر گفتگو کی جائے۔

تقریباً ایک صدی سے قیمتی میراث کی اشاعت

آرگنائزیشن آف لائبریریز،میوزیمز اور آستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز کے شعبہ تحقیقات اور تحقیقی پروڈکشن کے ماہر جناب انیس میری نے اس پروگرام کے دوران آرگنائزیشن کی سرگرمیوں سے متعلق ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے گذشتہ ایک صدی میں ہونے والی رضوی لائبریری کی نشر و اشاعت پر گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ اس آرگنائزیشن میں قیمتی ورثے کی نشر و اشاعت کا سلسلہ ۱۹۲۶ سے شروع ہوا  اور ان ۸۶ سالوں کے دوران یعنی ۲۰۱۱ تک اس آرگنائزیشن کی جانب سے ۱۲۳ کتب شائع کی گئیں،جن میں سے ۶۵ کتب  مخطوطات کی صورت میں ہیں،۵۰ کتب تألیف و ترجمہ کی صورت میں اور ۹ کتابیں شبیہ سازی(فیکس میل پرنٹنگ) کی صورت میں شائع کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید اس آرگنائزیشن کی حالیہ برسوں میں نشر و اشاعت کے حوالے سے کی گئی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  اس آرگنائزیشن کی جانب سے ۲۰۱۸ سے لے کر ۲۰۲۳  تک ۳۰ کتابیں شائع کی گئیں۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ قیمتی اور تاریخی ورثے سے متعلق شائع ہونے والی کتابیں مخصوص قارئین کے لئے ہیں،کہا کہ ایک محقق اپنی ضرورت کی معلومات اور کتاب حاصل کرنے کے لئے متعلقہ ادارہ یا آرگنائزیشن کی طرف مراجعہ کرتا ہے یہی علمی طبقے میں رائج ہے  جبکہ قیمتی ورثے سے متعلق کتب کو پبلشرز اپنے اہداف و مقاصد کو مدّ نظر رکھتے ہوئے مخصوص قارئین اور مخصوص تعداد میں نشر و اشاعت کا کام انجام دیتے ہیں۔

جناب میری نے اس آرگنائزیشن کی دو شعبوں میں یعنی  مخطوطات،دستاویزات،مطبوعہ کتب اور میوزیمز کے قدیمی آثار میں منفرد اور نایاب وسائل و ذرائع رکھنےاورماہر ین و محققین کی تربیت کو تحقیقاتی سرگرمیوں کے لئے ایک بہترین موقع قرار دیا۔

۱۲ تحقیقاتی منصوبے
لائبریریز،میوزیمز اور آستان قدس رضوی کے دستاویزاتی مرکز کی آرگنائزیشن ، ملک کی لائبریریز آرگنائزیشنز میں سے سب سے بڑی آرگنائزیشن جانی جاتی ہے خاص طور پر مخطوطات،دستاویزات،مطبوعہ آرکائیوز اور میوزیم کے قدیمی آثار کے تحفظ،تعارف اور انہیں فروغ دینے میں اس آرگنائزیشن نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور اس سلسلے میں اب تک بہت سارے تحقیقاتی مضامین بھی شائع کر چکی ہے ۔

آستان قدس رضوی میں لائیٹنگ اور چراغانی کی تاریخ کا جائزہ،میوزیم، تاریخ،آرٹ اور آثار قدیمہ کی ٹکنیکل اور خصوصی اصلاحات پر مشتمل پہلی جلد کی تصنیف و تدوین،حرم مطہر امام رضا(ع) سے متعلق فارسی اشعار کا اکھٹا کرنا،درجہ بندی اور جائزہ،قاجاری دور حکومت کے ہتھیاروں کے مجموعہ کا جائزہ،غزنیوں کے دور حکومت کے دوران خراسان میں قرآن سیسٹم کے فنی اور تاریخی پہلوؤں کی تلاش اورالبصائر فی الوجوہ والنظائرکے قلمی ایڈیشن کی تحقیق و تصحیح  جملہ چند ایسے تحقیقاتی منصوبے ہیں جسے آرگنائزیشن سے باہر دیگر محققین  کے توسط سے انجام دیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ ان چند تحقیقاتی منصوبوں سے جنہیں خود آرگنائزیشن کے اندرانجام دیا گیا ان کی بھی اس تقریب میں نقاب کشائی کی گئی جن میں آستان قدس رضوی کے معمار آیت اللہ شیخ ہاشم قزوینی  کی زندگی اور سوانح حیات،نصف صدی میں حرم مطہر امام رضا(ع) کی توسیع کی تاریخ،حرم امام رضا(ع) کی تصویری تاریخ،آستان قدس رضوی کے میوزیم میں درج قومی ورثے کی تفصیلی فہرست،صفویوں کے دورحکومت سے پہلوی اوّل کے دورحکومت تک آستان قدس رضوی کے انتظامی ادارے اور نگران ادارے کا جائزہ،۱۹۲۵ سے ۱۹۳۵ تک  کے سالوں میں آستان قدس رضوی کے اندر جناب محمد ولی اسدی کی  اصلاحات شامل ہیں۔

News Code 3087

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha