اسلام اور مقدسات کے دفاع میں ایران اور عراق کی اقوام متحد اور ایک دوسرے کی ہم پیمان ہیں

آستان قدس رضوی کے متولی سے ملاقات میں شریک عراقی مہمانوں نے رہبرِ معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی دعوت اور آستان قدس رضوی کی میزبانی پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے شہید قائدِ انقلاب اسلامی کی نمازِ جنازہ اور تشییع کے مراسم میں عراقی عوام اور قبائل کی وسیع شرکت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ عراقی مہمانوں نے دونوں اقوام کے گہرے تاریخی، دینی اور اعتقادی روابط پر زور دیتے ہوئے ایران اور عراق کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی حمایت کی ضرورت کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

عراقی مہمانوں نے شہید قائدِ انقلاب اسلامی کی تشییع کے مراسم میں عراقی عوام، شیوخ اور قبائل کی وسیع شرکت کو دونوں اقوام کی وفاداری اور برادرانہ تعلقات کا مظہر قرار دیا اور اس یکجہتی کے تسلسل پر زور دیا۔

شیخ محمد عباس العریبی: اسلامی جمہوریہ ایران کی میزبانی اور پرتپاک استقبال پر شکر گزار ہیں

ملاقات کے ایک اور حصے میں عراق کے وزیراعظم کے معاون اور مشیر برائے قبائلی امور شیخ محمد عباس العریبی نے عراقی قبائلی شیوخ اور عمائدین کی نمائندگی کرتے ہوئے عراقی قبائلی وفد کی میزبانی اور پرتپاک استقبال پر اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا: ’’اس اجتماع میں موجود اپنے بھائیوں، سادات اور قبائلی شیوخ کی جانب سے ہم عراقی وفد کے پرتپاک استقبال اور شایانِ شان میزبانی پر اسلامی جمہوریہ ایران کے شکر گزار ہیں۔‘‘

شیخ العریبی نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ان تمام حکام، شیوخ اور سادات کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے عراقی وفد کی ہمراہی اور استقبال میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عراق اور ایران کی اقوام کو ہر قسم کے شر اور گزند سے محفوظ رکھے۔

شیخ ریسان مطشر فہد: ایران کی حمایت میں عراقی قبائل کا مؤقف ان کے عقیدے اور تاریخی کردار کا عکاس ہے

اس کے بعد عراقی قبائلی شیوخ میں سے ایک شیخ ریسان مطشر فہد نے عراق کی تاریخ اور تہذیب کی تشکیل میں قبائل کے تاریخی کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’جو شخص بھی عراق کی قدیم اور معاصر تاریخ کا مطالعہ کرے گا، اسے معلوم ہوگا کہ اس سرزمین کی تاریخ اور تہذیب کا ایک بڑا حصہ عراقی قبائل کے کردار اور ان کے باوقار مؤقف کی بنیاد پر تشکیل پایا ہے۔‘‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی قبائل تاریخ بھر میں عزت، غیرت اور اقدار سے وابستگی کے حوالے سے پہچانے جاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’عراقی قبائل کبھی بادشاہوں کے غلام یا طاغوت کے خدمت گزار نہیں رہے، بلکہ ہمیشہ شرافت، عزت و وقار اور بلند و قابلِ قدر مؤقف کے حامل رہے ہیں۔‘‘

اس عراقی قبائلی شیخ نے حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضۂ مبارک کے جوار میں عراقی وفد کی حاضری اور آیت اللہ خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے بعد ایرانی عوام سے اظہارِ ہمدردی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ عراقی قبائل کا کھڑا ہونا، حق کے راستے پر چلنے میں عراقی عوام کے دائمی طرزِ عمل، کردار اور روش کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

شیخ ریسان مطشر فہد نے دنیا کے مختلف خطوں میں مسلم اقوام کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران نے مسلمانوں کی حمایت میں شناختوں اور مذاہب کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی اور مشکل وقت میں مسلمانوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ عراق اور ایران کے عوام ایک ہی قوم ہیں اور یہ رشتہ اور ساتھ دنیا کے اختتام تک برقرار رہے گا۔‘‘

شیخ فارس البدیری: ایران اور عراق کے روابط دین، عقیدے اور دیرینہ تعلقات پر استوار ہیں

عراقی قبائلی شیوخ میں سے ایک شیخ فارس البدیری نے بھی اس ملاقات میں مشہد مقدس میں حاضری اور حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضۂ مبارک کی زیارت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایران اور عراق کے عوام کے تعلقات کو محض جغرافیائی ہمسائیگی سے کہیں بڑھ کر قرار دیا۔

انہوں نے دونوں اقوام کے مشترکہ پہلوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کا سب سے اہم سبب عقیدہ، دینِ اسلام اور وہ اصیل و گہرے روابط ہیں جو صدیوں سے دونوں اقوام کے درمیان قائم ہیں۔‘‘

اس عراقی شیخ نے اسلامی جمہوریہ ایران اور دینِ اسلام کے خلاف دشمنانِ اسلام کی وسیع یلغار کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے مختلف خطوں میں اسلام اور مظلوم مسلمانوں کے دفاع میں ایک مستحکم مقام رکھتا ہے۔‘‘

شیخ البدیری نے شہید قائدِ انقلاب اسلامی، ان کے اہلِ خانہ اور ایران کے متعدد کمانڈروں اور عوام کی شہادت پر عراقی عوام کے غم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’عراق کے عوام نے اپنے تمام طبقات اور رجحانات کے ساتھ اس واقعے کو گہرے دکھ کے ساتھ دیکھا اور قابلِ فخر مؤقف اختیار کیا۔ ہم قبائلی شیوخ کی حیثیت سے اس یکجہتی پر فخر کرتے ہیں، کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ شہید قائدِ انقلاب اسلامی عراق اور ایران کے تمام عوام کے رہنما تھے۔‘‘

شیخ علی الغانمی: عراقی عوام نے حملے کے ابتدائی لمحات ہی سے اسلامی جمہوریہ ایران کا ساتھ دیا

اس ملاقات کے ایک اور مقرر شیخ علی الغانمی نے ہوائی اڈے پر آمد سے لے کر حرمِ مطہر رضوی اور ہالِ ولایت میں حاضری تک عراقی وفد کی میزبانی اور پرتپاک استقبال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’اس ملاقات میں ہماری موجودگی کا مقصد صرف میزبانی پر شکریہ ادا کرنا نہیں، بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس ملک میں اپنے بھائیوں کے ساتھ رابطے اور یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔‘‘

شیخ الغانمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے آغاز کے ابتدائی لمحات ہی سے عراقی عوام اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے۔ ان کے بقول: ’’عراق کے عوام نے اپنے تمام طبقات اور گروہوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کا ساتھ دیا؛ قبائلی شیوخ اور سرکاری ملازمین سے لے کر یونیورسٹی اساتذہ، ڈاکٹروں اور معاشرے کے مختلف طبقات تک سب اس کے ساتھ کھڑے رہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ شہید قائدِ انقلاب اسلامی کی شہادت کے دوسرے روز سے ہی عراق کے جنوب سے شمال تک مساجد اور حسینیات میں مجالسِ عزا منعقد ہونے لگیں اور عراقی عوام نے تشییع کے مراسم میں بھی شرکت کی۔

اس عراقی شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ ان اقدامات کا مقصد یکجہتی کا اعلان اور ایران کے ساتھ عراقی قوم کی حمایت کا اظہار تھا۔ انہوں نے کہا: ’’عراق کے عوام دنیا کو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ ایک ہی محاذ پر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

شیخ الغانمی نے پیش آنے والی صورتِ حال کو جنگِ احزاب اور جنگِ بدر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا: ’’اس معرکے کے ایک جانب شر کی قوتیں اور عالمی استکبار تھے، جبکہ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کھڑا تھا۔ ہمیں پہلے ہی لمحے سے فتح کا یقین تھا اور اس معرکے کے نتیجے کو محض عام حساب کتاب یا دونوں فریقوں کی عسکری طاقت کے موازنے سے نہیں پرکھا جا سکتا۔‘‘

جنگِ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کے باوجود ان کی فتح کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ الغانمی نے کہا: ’’جس طرح اللہ تعالیٰ نے جنگِ بدر میں مسلمانوں کی مدد فرمائی، اسی طرح ہمیں بھی نصرتِ الٰہی پر یقین تھا۔ ہمارے نزدیک یہ معرکہ جنگِ بدر، جنگِ احزاب اور روزِ عاشورا امام حسین علیہ السلام کی استقامت کی یاد تازہ کرتا تھا۔‘‘

News Code 10512

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha