عتبہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ اس کانفرنس کا آغاز آج بروزبدھ مؤرخہ۱۷ جنوری کو آستان قدس رضوی کی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے شیخ طبرسی ہال میں ہوا جس میں مختلف مذاہب و مسالک کے دانشوروں اور مفکرین نے شرکت فرمائی ،اس دوران کانفرنس کے چیئرمین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی رضا(ع) بین المسالک یا بین الادیان گفتگو کے لئے نمونہ اور آئیڈیل ہیں،آج دنیا کو مذاہب و مسالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت ہے ۔
آیت اللہ محمد ہادی عبد خدائی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئے دور میں تنازعات، انبیائے کرام کے راستے کو چھوڑ کر اقتدار اور دولت کی پیروی کرنے سے پیدا ہوئے ہیں،مذاہب و مسالک کے مابین گفتگو اور باہمی تعاون ہی ایک ایسا واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ پوری بشریت انبیاء کرام کے راستے کی طرف واپس پلٹ سکتی ہے۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مختلف ادیان کے مابین باہمی ہم فکری مختلف عقیدتی موضوعات پر ہو سکتی ہے جن میں وجود خداوند متعال،قیامت اورانسان کا خود مختار ہونا وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ عملی مسائل میں جیسے عدل و انصاف اور خاندانی امور پر بھی بین المسالک گفتگو ممکن ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ گفتگو کے لئے ہاتھ بڑھائیں تاکہ خدا کا قرب حاصل کرسکیں اور اس کام کے لئے امام رضا(ع) کو نمونہ اور آئیڈیل قرار دیتے اخلاقی اصولوں پر مشتمل ایک عالمانہ گفتگو کر سکتے ہیں۔
اتحاد و یکجہتی کے لئے حکمت اور دعوت دو اہم قرآنی سفارشات
کانفرنس میں فلسفہ کے ممتاز پروفیسر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے انتہائی مشکل حالات میں مختلف مذاہب و مسالک کے ساتھ گفتگو فرمائی،لیکن خوش قسمتی سے عصر حاضر میں گفتگو بہت آسان ہے اس لئے ہمیں اس چیز سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔
جناب غلام رضا اعوانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی تعلیمات میں ذکر ہے کہ حکمت کے ساتھ اہل کتاب سے گفتگو کی جائے ،درحقیقت اہل حکمت ہی حق و سچ پر ہوتے ہیں، گفتگو میں جدال اور جھگڑا کرنے سے دشمنی پیدا ہوتی ہے اس لئے اس سے اجتناب کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی دوآیات ہمیں بین المسالک گفتگو کی طرف راہنمائی کرتی ہیں،قرآن کریم اہل ادیان کو وحدت و یکجہتی کی طرف دعوت دیتا ہے جیسا کہ سورہ آل عمران کی ۶۴ ویں آیت میں ارشاد ہوا ہے ’’ قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَآءٍبَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ‘‘(آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں اور تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو خدا کے حکم پر تسلیم ہیں)۔
جناب اعوانی نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دین انسانیت کی نجات کا باعث بننا چاہئے ،قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے جن و انس کو عبادت اور بندگی کے لئے خلق کیا ہے اور عبودیت و بندگی تمام ادیان میں مشترک ہے ،عبودیت کے لئے دو شرائط ہیں ؛پہلی یہ کہ عبادت خالص توحید پر مبنی ہو اور شرک سے پاک ہوا،انسان اور خدا کا فرق ہی عبودیت اور ربوبیت میں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی ایک اور آیت کا ذکر کیا جس میں خداوند متعال کی عبادت کے لئے شرائط بیان کی گئی ہیں جو کہ تمام مذاہب و مسالک کے مشترکہ اصول ہیں جن میں شرک سے بچنا،والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا،خوف کی وجہ سے بچوں کو قتل نہ کرنا،کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچنا،مال یتیم سے اجتناب،معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام اورحق کی پیروی وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام علی رضا(ع) کی گفتگو فلاح و نجات کا ذریعہ ہے ،اور امت اسلامیہ ،اتحاد سے ہی نجات پا سکتی ہے ۔
کانفرنس کے انعقاد میں ۱۰۰ سے زائد ملکی و غیرملکی تحقیقاتی مراکز کا تعاون
کانفرنس کے سکریٹری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین المسالک اور بین المذاہب باہمی گفتگو سے مختلف ادیان کے دانشوروں اور مفکرین کے درمیان روابط مستحکم ہوں گے۔
جناب ڈاکٹر احد فرامرزقرا ملکی نے بتایا کہ یورپ،امریکہ اور مشرق وسطیٰ سے ۳۲ معاون اداروں اور۸۱ تحقیقاتی مراکز نے اس کانفرنس میں شرکت فرمائی ہے اور اس کانفرنس کی داخلی علمی کمیٹی یونیورسٹی کے۳۴ ممتاز پروفیسرز اور۱۸مذہبی اسکالرز پر مشتمل ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کے لئے مختلف شہروں میں۱۸ پری میٹنگز منعقدہو کی گئی ہیں۔کانفرنس میں مختلف ادیان و مسالک کے اعلیٰ درجے کے دانشوروں اور محققین جیسے کلیمی،عیسائی اورزرتشتی وغیرہ نے شرکت فرمائی ہے
آپ کا تبصرہ