آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ عراقی موکب داروں کو خراج تحسین پیش کرنے کی تقریب میں آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی، مرکزی اربعین کمیٹی کے سربراہ اوروزیر داخلہ کے نائب علی اکبر پور جمشیدیان،رہبر معظم انقلاب کے بین الاقوامی امور کے معاون حجت الاسلام والمسلمین محمد قمی اور ایرانی و عراقی حکام سمیت حسینی موکبوں کے نمائندوں نے شرکت فرمائی۔
یہ تقریب حالیہ جنگ کے دوران عراقی موکب داروں کی ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی اور خدمات کی قدردانی اور دونوں اقوام کے برادرانہ رشتوں کی پاسداری پر مرکوز تھی؛ ایسا رشتہ جس کی بنیادیں اہل بیت (ع) کی محبت، عاشورا کی ثقافت اور زائرین کی خدمت کی دیرینہ روایت سے جڑی ہیں۔
اہلبیت(ع) کی محبت؛ایران و عراق کا مشترکہ اثاثہ ہے
آستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے تقریب کے دوران عراقی موکب داروں کو خوش آمدید کہا اور حضرت اباعبدالله الحسین (ع) کے زائرین کی میزبانی میں ان کی خدمات اور مجاہدانہ کاوشوں کی قدردانی کرتے ہوئے ایرانی و عراقی اقوام کے مابین اٹوٹ رشتے کو اہلبیت عصمت و طہارت(ع) سے مشترکہ محبت و عقیدت قراردیا۔
انہوں نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کےجنازہ کے جلوس میں عراقی عوام کی پرجوش شرکت کا ذکر کرتے ہوئے اس ہمدردی کو دو قوموں کے ایمانی بھائی چارے اور یکجہتی کا ایک گرانقدر مظہر قرار دیا اور تاکید کی کہ اہلِ بیت (ع) کی محبت ایک عظیم اثاثہ ہے جس نے جغرافیایی سرحدوں سے ماورا ہو کر ایرانی و عراقی عوام کے دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے ۔
آستان قدس رضوی کے متولی نے دونوں اقوام کی باہمی یکجہتی اور بھائی چارگی کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور دشمنوں کی جانب سے ایران اور عراق کے دوستانہ تعلقات میں تفریق پیدا کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوششوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن، میڈیا اور سوشل ذرائع کے ذریعے دونوں قوموں کے درمیان بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونے کی کوشش کر رہا ہے،اس لئے ان رجحانات کے مقابلے میں ہوشیاری اور دونوں ممالک کے گہرے اعتقادی اور تاریخی رشتوں کی حفاظت ایک ناقابل انکار ضرورت ہے۔
نہوں نے آخر میں عراقی عوام، عظیم مذہبی مرجعیت، عشائر(قبائل) اور اس ملک کے موکب داروں کے ساتھ ساتھ ایرانی خادموں اور خدمت گزاروں کا بھی جنہوں نے اس برادرانہ رشتے کو مضبوط بنانے کی راہ میں کاوشیں کیں، صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔
عراقی موکب دار،مشکل دنوں میں ایرانی عوام کے ساتھ
تقریب کو جاری رکھتے ہوئے وزیرداخلہ کے نائب اور مرکزی اربعین کمیٹی کے سربراہ جناب علی اکبرپور جمشیدیان نے ایران میں عراقی موکب داروں کی موجودگی کو سراہاتے ہوئے حالیہ جنگ میں ان کی خدمات کو دونوں اقوام کی جوانمردی، ایثار اور یکجہتی کا مظہر قرار دیا۔
انہوں نے عظیم چہلم امام حسین(ع) کی مشی کے موقع پر عراقی عوام کی مثالی مہمان نوازی کی درخشاں تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے، حالیہ جنگ کے مشکل حالات میں عراقی موکبوں کی ایرانی شہروں میں موجودگی کو ایک گرانقدر اور پائیدار اقدام قرار دیا۔
جناب پور جمشیدیان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں جب ایرانی عوام امریکی اور صیہونی حکومت کے حملوں کا سامنا کر رہے تھے، عراقی موکب دار اپنے ملک کے مختلف شہروں سے ایران آئے اور شہروں اور خدمت رسانی کے میدانوں میں حاضر ہو کر عوام اور امدادی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔
مرکزی اربعین کمیٹی کے سربراہ نے جنگ کے دنوں میں ان موکب داروں کی مسلسل موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے موجودہ مشکلات کے باوجود اعلان کیا کہ جب تک جنگ جاری ہے اور ایرانی عوام کو مدد کی ضرورت ہے، وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رہیں گے۔
انہوں نے اس ہمراہی اور یکجہتی کو سراہتے ہوئے عراقی موکب داروں کی موجودگی کو ایرانی عوام کے لیے حوصلے کا باعث قرار دیا اور زور دیا: ایران کو ایسے پڑوسیوں اور بھائیوں پر فخر ہے۔
جناب پور جمشیدیان نے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کے جنازے میں عراقی عوام کی بھرپور شرکت کا ذکر کرتے ہوئےدونوں قوموں کے تاریخی رشتوں کے تحفظ پر تاکید کی اور کہا کہ دشمن ان گہرے تعلقات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؛ اس لیے دونوں ملکوں کی عوام اور حکام کی ہوشیاری اختلاف پیدا کرنے والی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے
ایران و عراق کا بندھن ہمسایگی سے بالاتر ہے
رہبر معظم انقلاب کے بین الاقوامی امور کے معاون حجت الاسلام والمسلمین محمد قمی نے تقریب کے دوران رہبر معظم انقلاب کی جانب سے عراقی موکب داروں کو سلام اور ان کی قدر دانی کا پیغام پہنچاتے ہوئے شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کے جنازے میں ان کی ہمراہی اور ایرانی عوام کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے عراق کے حالیہ سفر اور علما، مذہبی مراجع، عہدیداروں، عشائر(قبائل) اور موکبوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں، جنازے کی تقریب میں شریک افراد کی قدردانی کا پیغام پہنچایا گیا، اور اس مشن کے اہم حصوں میں سے ایک ان موکب داروں کی قدردانی تھی جو ایران میں موجود تھے۔
حجت الاسلام قمی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران اور عراق کے تعلقات صرف ہمسایگی کے مشترکات تک محدود نہیں ہیں، کہا کہ تاریخی، تہذیبی، مذہبی رشتوں اور مشترکہ تقدیر نے دونوں اقوام کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے؛ ایسا تعلق جس کا گہرترین اظہار امام حسین (ع) کی محبت اور عاشورائی ثقافت ہے۔
انہوں نے اربعین امام حسین(ع) کودونوں قوموں کی یکجہتی کا مظہر اور قوموں کے درمیان تعلقات کے لیے ایک نمونہ قرار دیا اور خطے میں عوام اور مزاحمتی گروہوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ استکبار کے سامنے ڈٹ جانے اور مشترکہ اہداف و مقاصد کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔
گفتگو کے آخر میں انہوں نے سماجی میدانوں میں ایرانی عوام کی وسیع موجودگی اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمراہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس یکجہتی کو بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایرانی سوسائٹی کی اعلیٰ صلاحیت کی علامت قرار دیا، اور امید ظاہر کی کہ ایران اور عراق کے عوام کے مسلسل تعاون اور ہمراہی سے آگے کا راستہ مزید طاقت کے ساتھ طے کیا جائے گا۔
حسینی مواکب؛ مشکل دنوں میں ہمدردی اور ہمدلی کا عکاس ہیں
تقریب کے دوسرے حصے میں عراقی موکب داروں کے نمائندے جناب ستار علاوی نے عراق میں حسینی موکبوں کی سرگرمیوں کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مواکب صرف معاونت اور امداد رسانی کے ادارے نہیں ہیں، بلکہ ایسے گروہ ہیں جو امام حسین (ع) کا پیغام، آزادی اور ایثار کو عمل میں اپناتے ہیں۔
انہوں نے 2014ء میں عراق کے کچھ علاقوں پر داعش کے حملوں کے ساتھ ہی مواکب کی وسیع امدادی سرگرمیوں کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں موکب دار سیکورٹی فورسز اور حشد الشعبی کے شانہ بشانہ عوام کی مدد کے لیے دوڑے اور عراق اور اس کے مقدسات کے دفاع کے راستے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔
جناب علاوی نے داعش کے مقابلے میں عراقی حکومت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی مادی، لاجسٹک اور روحانی تعاون کی یاد دہانی کراتے ہوئے، پچھلے مہینوں میں ایران میں عراقی موکبوں کی موجودگی کو اس ہمراہی کا جواب اور دونوں اقوام کی وفاداری کا مظہر قرار دیا۔
عراقی موکب داروں کے نمائندے نے تاکید کی کہ ایران میں تین سو سے زائد عراقی موکبوں کی موجودگی سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اہل بیت (ع) کی محبت، عقائد اور مشترکہ امنگوں میں گہرا رشتہ رکھتے ہیں اور عراق ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
گفتگو کے آخر میں انہوں نے موکبوں کے لئے خدمت فراہم کرنے کا موقع دینے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور ایران اور عراق کے شہداء کی یاد کو خراج عقیدت پیش کیا۔
موکب داروں کو خراج تحسین اور دونوں اقوام کے یادگاری تحائف کا تبادلہ
تقریب کے اختتام پر، ایرانی عوام کے ساتھ خدمات اور ہمراہی کے اعتراف میں متعدد عراقی موکب داروں کی تکریم و تجلیل کی گئی۔ موکبوں کے چند نمائندگان نے آستان قدس رضوی کو تحائف پیش کیے، اور اس کے مقابلے میں، آستان قدس رضوی کی طرف سے اور اس مقدس آستانہ کے متولی کے نمائندے کے طور پر انہیں تحائف دیے گئے۔
اس تقریب کے خاص حصوں میں سے ایک، عراقی نو عمر یوسف حسینی کی شرکت تھی، جنہوں نے ایرانی عوام کی حمایت میں اپنا مال قربان کرنے کی کہانی سنا کر حاضرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔
اس نوجوان نے اس سے پہلے ایک علامتی اقدام کے طور پر اپنی سائیکل، جو کہ اس کی واحد قیمتی چیز تھی، ایرانی عوام کو ہدیہ کر دی تھی۔ اسے متبادل کے طور پر دوسری سائیکل ملنے کے بعد بھی اس نے اسے دوبارہ ایرانی عوام کے نام کر دیا، اور جب ایک مخیر شخص نے اس ایثار اور بخشش کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے اسے ایک کار (گاڑی) تحفے میں دی، تو اس نے ایرانی عوام کے لیے اسے بھی بخش دینے کا ذکر کیا۔
یوسف حسینی نے اس تقریب میں ایک حماسی نظم پیش کر کے ایک بار پھر ایرانی عوام کے ساتھ اپنی همدردی اور همراهی پر زور دیا اور آخر میں اس ایثارگرانہ جذبے اور ایرانی عوام کے ساتھ محبت کے اظہار پر اسے خراج تحسین پیش کیا گیا اور تحائف دیئے گئے ۔
واضح رہے کہ یہ تقریب حسینی موکبوں کے خادمین کی تکریم و تجلیل اور ایرانی و عراقی اقوام کے مابین ہمدردی اور برادرانہ رشتوں کے تسلسل پر زور دینے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
آپ کا تبصرہ